
ہمارے گاؤں میں ایک تنازع ہوا ،جس کے نتیجے میں جھگڑا ہوا ،اور ایک بچہ قتل ہوا ہے ،اور ایک شخص گولی لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوا ہے،قتل ہونے والا بچہ میرے بیٹے کے چچا زاد بھائی کا بیٹا ہے اور زخمی ہونے والا قتل ہونے والے کاسگا چچا اور میرے بیٹے کا چچا زاد بھائی ہے،قتل ہونے والا میرے بیٹے کا بھتیجا لگااور زخمی ہونے والا میرے بیٹے کاچچازادبھائی ہے،ایف آئی آر میں موقع پر موجود افراد میں میرے بیٹے کانام بھی لکھوایا گیاہے یعنی میرا بیٹانے موقع پر لڑائی دیکھی ہے اور عدالت میں قتل کے متعلق میرے بیٹے نے گواہی دینی ہے کہ قتل ہوتے ہوئے دیکھاہے ،جبکہ میرا بیٹا موقع پر موجود نہیں تھا،لیکن چچازاد بھائی کے دعوے کی حمایت کرنے کےلیے اب میرے بیٹے کو گواہی کاکہاجارہاہے ،کیونکہ گاؤں دیہاتوں میں دشمنوں میں اس طرح کے عمل کیے جاتے ہیں میری معلومات میں جھوٹی گواہی درست عمل نہیں ہے ،میں اپنے بیٹے کو اس عمل سے روکناچاہتی ہوں اور اس سلسلہ میں فتویٰ درکار ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیامیرا بیٹایہ گواہی دے سکتاہے ،اس طرح کی گواہی کی شرعی حیثیت سے آگاہ کریں ۔کہ کوئی گنجائش موجودہے کہ میرا بیٹا اپنے چچازادبھائی کے دعوے کی حمایت میں بن دیکھے گواہی دے سکے ؛کیونکہ میرے بیٹے کے چچازادبھائی کا بیٹا قتل ہوا ہے ،اس کی حمایت یا بدلہ لینے میں مدد کےلیے میرے بیٹے کا گواہی دینا جائزعمل ہے یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں سائلہ کے بیٹے کا اپنے چچازادبھائی کے دعویٰ کی حمایت میں جھوٹی گواہی دینا قطعاًجائزنہیں۔بلکہ گواہی دینے کا اہل وہی ہےجس نے اپنی آنکھوں سے قتل کرتے ہوئے دیکھا ہو ۔
صحيح البخاري میں ہے:
"حدثنا عبد الله بن منير، سمع وهب بن جرير وعبد الملك بن إبراهيم، قالا: حدثنا شعبة، عن عبيد الله بن أبي بكر بن أنس، عن أنس رضي الله عنه، قال: سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الكبائر، قال: "الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، وشهادة الزور"."
ترجمہ :حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، اور جھوٹی گواہی دینا۔
(کتاب الشهادات،باب ما قيل في شهادة الزور،ج:3،ص:504،ط:دار التأصيل)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وأما الشرائط فنوعان نوع هو شرط تحمل الشهادة، ونوع هو شرط أداء الشهادة أ...أما الثاني فأنواع: منها ما يرجع إلى الشاهد،..ومنها ما يرجع إلى نفس الشهادة...والأصالة في الشهادة على الحدود والقصاص هكذا في البدائع."
(کتاب الشهادات،الباب الاول،ج:3،ص:451،ط: المكتبة الحبيبية-كوئته)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100612
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن