بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض دار کا وسعت کے باوجود قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے


سوال

میرے دوست  نے مجھ سے بطورِ قرض  پچاس لاکھ روپے  2024ء میں لیے تھے. اور چار لاکھ روپے 2025 ء میں لیے تھے. اب میں اس سے اپنے پیسوں کا مطالبہ کر رہا ہوں تو وہ نہ ہی میرا فون اُٹھاتا ہے اور نہ ہی ملاقات کرتا ہے ۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ آپ کے ساتھ بڑی نا انصافی ہوئی ہے۔ البتہ میری نہایت کوشش  کی وجہ  سے  اس نے مجھے صرف دو لاکھ روپے واپس کیے ہیں. اور باقی باون لاکھ اب تک اس نے واپس نہیں کیے، اور نہ ہی واپس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جبکہ وہ کافی مالدار بھی ہے۔ اور اپنے آپ کو بڑا دیندار بھی بتلاتا ہے۔

شریعت   ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

کیا ایسے شخص کے لیےدوسروں کا مال کھانا جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ قرض اتارنے  کی قدرت ہونے کے باوجود ٹال مٹول کرنا از روئےحدیث  ظلم ہے، اور ایسا شخص  رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی رو سے  ظالم کہلاتا ہے، نیز  استطاعت کے باوجود  قرض نہ اتارنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ شہادت جیسے عظیم موت پائے جانے کے باوجود مغفرت سے محروم رہتا ہے،یہاں تک کہ قرض اتار دیا جائے،یا قرض معاف کر دیا جائے۔

یہی وجہ تھی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کہ اس پر قرض تو نہیں ہے؟ اگر میت مقروض نہ ہوتی تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازہ پڑھاتے اور اگرمیت مقروض ہوتی اور اپنے پیچھے قرض کی ادائیگی کا انتظام نہ چھوڑا ہوتا اور کوئی اس کے قرض کی ضمانت بھی نہ لیتا تو آپﷺ صحابہ کرامؓ سے کہہ دیتے کہ اپنے بھائی کا جنازہ ادا کرلو، اور آپ ﷺ ایسے افراد کی نمازِ جنازہ ادا نہ فرماتے تھے؛ تاکہ امت کو قرض میں ٹال مٹول کی برائی اور اس کی شدت کا احساس ہو؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں استطاعت کے باوجود قرض نہ اتارنا٬ ٹال مٹول  سے کام لینا نہایت برا عمل ہے٬ جو آخرت کی رسوائی کا باعث ہے٬ پس مذکورہ شخص کو دنیا میں ہی معاملہ صاف کر لینا چاہیے٬ بصورت دیگر آخرت میں قرض کا حساب دینا نہایت مشکل کام ہو گا٬ خصوصاً مذکورہ شخص جب اپنے آپ کو دیندار ظاہر کرتا ہے٬ تو دینی احکامات و تقاضوں کو پورا کرنے کا اسے خصوصی اہتمام کرنا چاہیے؛ کیوں کہ  دینداری کے لبادے میں خلافِ شرع کام انجام دینا نا صرف دین کی بدنامی کاباعث ہے٬ بلکہ عوام الناس کو دین سے متنفر کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔

نیز مذکورہ شخص اگر پھر بھی قرض ادا کرنے کے لیے تیار نہ ہو٬ تو سائل اپنے قرضے کے حصول کے لیے  قانونی کار روائی کا شرعاً حق رکھتا ہے،قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ سائل اپنا قرض وصول کرسکتا ہے۔

صحيح البخاری میں ہے:

''عن أبي هريرة رضي الله عنه:عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (مطل الغني ظلم).''

ترجمہ:” مالدار شخص کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔“

(كتاب الحوالات، باب اذا أحال علي ملي فليس له رد، ج:2، ص: 799، ط: دار ابن كثير)

وفيه ايضاً:

''عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يؤتى بالرجل المتوفى عليه الدين، فيسأل: هل ترك لدينه فضلا؟  فإن حدث أنه ترك وفاء صلى وإلا قال للمسلمين: صلوا على صاحبكم"، فلما فتح الله عليه الفتوح قال: أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم، فمن توفي من المؤمنين فترك دينا فعلي قضاؤه، ومن ترك مالا فلورثته.''

ترجمہ:” حضرت ابوھریرہ ؓؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ایسے فوت شدہ شخص کو لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ ﷺ دریافت فرماتے:کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ مال چھوڑا ہے؟اگر بتایا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے، جس سے قرض ادا ہوسکتا ہے تو آپ ﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے، ورنہ مسلمانوں سے فرماتے:تم اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتوحات عطا فرمائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:میں مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں؛ لہٰذا جو مومن فوت ہو جائے اور اس پر قرض ہو تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا ہے۔“

(كتاب النفقات، باب المراضع من المواليات وغيرهن، ج:7، ص:185، ط: دار ابن كثير)

وفيه ايضاً:

'' عن عائشةؓ، زوج النبي صلى الله عليه وسلم أخبرته:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو في الصلاة:.........اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم). فقال له قائل: ما أكثر ما تستعيذ من المغرم؟ فقال: (إن الرجل إذا غرم، حدث فكذب، ووعد فأخلف).''

ترجمہ:”نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ نماز میں یہ دعا فرمایا کرتے تھے:اے اللہ! میں گناہ اور قرض کے بوجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔تو کسی نے عرض کیا: آپ ﷺ قرض سے اتنی کثرت سے پناہ کیوں مانگتے ہیں؟آپ ﷺ نے فرمایا:آدمی جب قرض دار ہو جاتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف  ورزی کرتا ہے۔“

(کتاب صفة الصلاة  ،باب الدعاء قبل السلام، ج:1 ،ص: 286، ط:  دار ابن كثير)

مصابيح السنہ میں ہے:

''عن أبي موسى رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "إن أعظم الذنوب عند الله أن يلقاه بها عبد بعد الكبائر التي نهى الله عنها أن يموت رجل وعليه دين لا يدع له قضاء"

 ترجمہ:”حضرت ابو موسیٰ ؓ نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اس حال میں مرے کہ اس پر قرض ہو اور اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کچھ نہ چھوڑا ہو۔“

(كتاب البيوع، باب الافلاس والانظار، ج:2، ص: 346،ط: دار ابن كثير)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101481

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں