
میں نے دو شادیاں کی ہوئی ہیں۔ پہلی بیوی پاکستانی ہے، جس سے میرے تین بچے ہیں، اور دوسری شادی میں نے ایک امریکن بیوہ سے کی ہے۔ میری امریکن بیوی میرے لیے امریکہ کا ویزا اپلائی کرنا چاہتی ہے۔ چونکہ امریکہ میں ایک وقت میں صرف ایک شادی کا قانون ہے، اس لیے اگر میں اپنی پہلی بیوی کو طلاقِ بائن دے دوں اور یونین کونسل سے مؤثر طلاق کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر کے دوسری شادی کو ظاہر کرتے ہوئے ویزا اپلائی کروں، تو کیا بعد میں میں پہلی بیوی سے دوبارہ رجوع کر سکتا ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ امریکی قانونِ Polygamy (کثرتِ ازدواج) کی پابندی کے باعث اپنی پہلی بیوی کو طلاقِ بائن دے کر یونین کونسل سے اس کا طلاق نامہ (سرٹیفیکیٹ) حاصل کریں، اور اسی بنیاد پر امریکی ویزا حاصل کریں، تو اس صورت میں آپ کی پہلی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی، بعد ازاں اگر آپ اسے دوبارہ اپنی زوجیت میں لانا چاہیں تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا، آئندہ آپ کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
تاہم اگر آپ اپنی پہلی بیوی کو حقیقتاً اپنی زوجیت سے نکالنا نہیں چاہتے، بلکہ اس ملک کی قانون کی مجبوری کے باعث محض ایک فرضی طلاق نامہ تیار کر کے قانونی تقاضا پورا کرنا چاہتے ہیں، تو بعض فقہاء کرام نے ایسی مجبوری کی حالت میں اس کی مشروط اجازت دی ہے۔
اس کی درست صورت یہ ہوگی کہ سب سے پہلے دو معتبر گواہ مقرر کریں اور ان کے سامنے یہ وضاحت کردیں کہ جو طلاق نامہ میں تیار کرنے جا رہا ہوں، وہ حقیقی طلاق نہیں بلکہ صرف ظاہری و رسمی کارروائی کے لیے ہے، اور اس سے میری نیت بیوی کو طلاق دینے کی نہیں ہے۔
پھر انہی گواہوں کو اس فرضی طلاق نامے میں بطورِ گواہ شامل کیا جائے، اور زبان سے طلاق دینے کا کوئی اقرار نہ کیا جائے، تو ایسی صورت میں شرعاً طلاق واقع نہیں ہوگی۔
البتہ اگر کسی شخص نے بغیر گواہوں کے طلاق نامہ تیار کرلیا، اور بعد میں یہ دعویٰ کیا کہ یہ فرضی یا غیر حقیقی تھا، تو اس کا یہ دعویٰ شرعاً قابلِ قبول نہیں ہوگا، اور ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله أو هازلا) أي فيقع قضاء وديانة كما يذكره الشارح، وبه صرح في الخلاصة معللا بأنه مكابر باللفظ فيستحق التغليظ، وكذا في البزازية. وأما ما في إكراه الخانية: لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع، كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا فقال في البحر، وإن مراده لعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة،ثم نقل عن البزازية والقنية لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا."
(کتاب الطلاق، ج:3، ص:238، ط:دار الفکر)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"الجواب حامدا و مصلیا: اگر لڑکا پہلے اس بات کا گواہ بنا لے کہ میں طلاق نامہ پر غلط دستخط کروں گا، یا عدالت میں طلاق کا غلط اقرار کروں گا، واقعۃً نہ طلاق دی ہے نہ طلاق دینا مقصود ہے تو اس کے اس جھوٹے اقرار یا جھوٹے دستخط سے طلاق واقع نہیں ہوگی: لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء ."
(کتاب الطلاق، باب وقوع الطلاق و عدم وقوعہ، ج:12، ص:244،ط:ادارۃ الفاروق)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101303
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن