
احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ چاند دیکھ کر مہینے کا آغاز کرو؛ اس لیے مسلمان ہر مہینے کی 29 تاریخ کو آسمان پر نئے چاند کو ڈھونڈتے ہیں اور چاند نظر آجائے تو اگلے مہینے کا آغاز کرتے ہیں، اصل مقصد اس بات کا تعین کرنا ہوتا ہے کہ نیا چاند وجود میں آچکا ہے ،چاند دیکھنا اصل مقصد نہیں ہوتا ،لیکن پرانے زمانے میں ایک طریقہ تھا کہ چاند دیکھ کر چاند کی پیدائش کا پتا کیا جائے،کیوں کہ اس وقت نہ دوربین تھی اور نہ جدید آلات اس لیے لوگ پہلی تاریخ کے چاند کو آسمان پر ڈھونڈتے تھے ، آج کل محکمۂ فلکیات والے پہلے سے بتا دیتے ہیں کہ نیا چاند کس وقت پیدا ہو گا؟ اس لیے چاند کو آسمان پر ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ مہینے کے آغاز کے لیے چاند کی پیدائش کو معیار قرار دیا جائے، اور یہ کام محکمۂ فلکیات کے حوالے کیا جائے، علماء کرام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ محکمۂ فلکیات کے حق میں فتوی جاری کریں اور یہ کام محکمۂ فلکیات کے حوالے کریں؛ کیوں کہ ان کو پہلے سے پتا ہوتا ہے کہ نیا چاند کس وقت پیدا ہو گا، ان کا یہی کام ہے، وہ دن رات سورج چاند اور ستاروں پر تحقیق کرتے رہتے ہیں، وہ ہر وقت چاند کو دیکھتے ہیں انہیں عام آدمی کی شہادت کی ضرورت ہی نہیں ہے؛ اس لیے علماء کرام محکمۂ فلکیات کے حق میں فتوی جاری کریں اور یہ کام محکمۂ فلکیات کے حوالے کریں، محکمۂ فلکیات والے چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کریں۔
ہمارے علماء کرام محکمۂ فلکیات پر اعتبار نہیں کرتے اور عام آدمی کی شہادت پر اعتبار کرتے ہیں، عام آدمی کے پاس نہ دوربین ہے اور نہ جدید آلات، وہ بغیر کسی آلات کے آسمان پر چاند ڈھونڈتے ہیں اور اکثر غلطیاں کرتے ہیں، چاند کی غلط شہادت دیتے ہیں، اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں، ہمارے ملک میں تین چار عیدیں عام آدمی کی غلط شہادت کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں، لیکن ہمارے علماء کرام عام آدمی کی شہادت کو یہ کہہ کر قبول کر لیتے ہیں کہ عاقل بالغ آدمی نے شہادت دے دی ہے، لہذا شریعت کا تقاضہ پورا ہو چکا ہے، کیا عاقل بالغ آدمی سے غلطی نہیں ہو سکتی؟ ہمارے علماء کرام کو اس پر سوچنا چاہیے اور چاند دیکھنے کے کام کو عام آدمی کی بجائے محکمۂ فلکیات کے حوالے کریں،کیوں کہ ان کا یہی کام ہے۔
علماء کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ چاند کے حوالے سے محکمۂ فلکیات کی معلومات 100 فیصد درست ہوتی ہیں، باقی کائنات کے بارے میں ان کی معلومات درست بھی ہوتی ہیں اور غلط بھی، کیوں کہ کائنات بہت بڑی ہے، اس میں اربوں کھربوں ستارے موجود ہیں، لیکن چاند تو زمین کا پڑوسی سیارہ ہے؛ اس لیے چاند کے حوالے سے محکمۂ فلکیات کی معلومات 100 فیصد درست ہوتی ہیں، وہ ہر وقت چاند کو دیکھتے ہیں اور چاند پر ریسرچ کرتے ہیں، انہیں عام آدمی کی شہادت کی ضرورت ہی نہیں ہے؛ اس لیے موجودہ حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ علماء کرام رویتِ ہلال کے کام کو محکمۂ فلکیات کے حوالے کریں اور محکمۂ فلکیات کے حق میں فتوی جاری کریں، محکمۂ فلکیات والے چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کریں، جب تک علماء کرام محکمۂ فلکیات کے حق میں فتوی جاری نہیں کریں گے، اس وقت تک عوام محکمۂ فلکیات کی بات پر عمل نہیں کریں گے۔
دینِ اسلام کائنات میں بسنے والے ہر فرد کے لیے ہے اور اس کے احکامات بھی تمام لوگوں سے متعلق ہیں، یہی وجہ ہے کہ عبادات میں اوقات کا اندازہ رکھنے میں نہایت ہی سادہ اور آسان طریقہ مقرر کیا گیا ہے، جیسے نماز کے لیے سورج کے طلوع وغروب اور زوال کااعتبار کیا گیا ہے، جسے ایک سادہ لوح، جدید آلات سے ناآشنا شخص با آسانی معلوم کرسکتا ہے، اسی طرح روزہ، عیدین، حج وغیرہ میں قمری مہینوں کا اعتبار کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آسان اور عام فہم اور ہر شخص کے لیےعمل میں آسان طریقہ بتادیا کہ چاند دیکھنے پر روزہ رکھو، اور چاند دیکھنے پر افطار یعنی عید کرو، تاکہ ایک عام فہم، سادہ لوح مسلمان کے لیے بھی فرائض کی ادائیگی آسان ہو، لہذا روزہ اور عید کا مدار چاند کی رؤ یت پر ہے، یعنی اگر چاند نظر آئے تو رمضان شروع ہونے کا حکم ہے، اور اگر چاند نظر نہ آئے تو رمضان کا آغاز نہیں ہوگا، یہی حکم عید کا بھی ہے۔ خواہ آسمان ابر آلود ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے، اور فلکیات کے قواعد کے مطابق بادلوں کے پیچھے اس کا وجود یقینی ہو، تب بھی ظاہری رؤیت کا ہی اعتبار کیا جائے گا؛ لہذا پہلے سے کلینڈر بنا کر اس کو متعین کرنا درست نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ چاند دیکھنے کا اہتمام کریں اور اسلامی ملک میں باقاعدہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی ہونی چاہیے؛ تاکہ چاند نظر آنے پر وہ اس کا اعلان کرے۔
سائل کا یہ وہم کہ ’’اصل مقصد اس بات کا تعین کرنا ہوتا ہے کہ نیا چاند وجود میں آچکا ہے ،چاند دیکھنا اصل مقصد نہیں ہوتا‘‘ شریعت کی واضح ہدایت کے خلاف ہے؛ اس لیے کہ احادیث مبارکہ میں واضح طور پر حکم ہے کہ مہینہ کی ابتداء کا مدار چاند کی رؤیت پر ہے؛ اس موضوع سے متعلق جتنی بھی احادیث مبارکہ سامنے آئی ہیں ان تمام میں رؤیت پر ہی مہینہ کے آغاز و اختتام کا مدار رکھا گیا ہے، اسی طرح سائل کا یہ کہنا کہ "ضرورت اس بات کی ہے کہ مہینے کے آغاز کے لیے چاند کی پیدائش کو معیار قرار دیا جائے"بھی شرعی حکم سے متصادم ہے؛اس لیے کہ شریعت نے معیار رؤیت کو بتایا ہےنہ کہ پیدائش کو،جب کہ پیدائش کو پہچاننا ہر خاص و عام کے لیے ممکن بھی نہیں ہے،نیز محکمۂ موسمیات کی پیش گوئیوں کو 100 فیصد درست قرار دینا بھی محل نظر ہے۔
اسی طرح اگر کوئی ایسا آلہ تیار کرلیاجائے جس سے چاند کو اس کے مدار کے کسی بھی حصے میں دیکھا جاسکتا ہو خواہ مہینے کی اٹھائیس تاریخ ہی کیوں نہ ہو تو کیا کوئی اس بنیاد پر ہی اگلے مہینے کا آغاز کرسکتا ہے؟ لہذا جدید آلات سے استفادہ کرنا اور اس سے شرعی تقاضوں کو پورا کرنے میں مدد لینے میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن شریعت کے ایک اہم معاملہ کا مدار جدید آلات پر رکھ دینا کسی صورت درست نہیں۔
اسی طرح سائل کا ذکر کردہ یہ اشکال کہ ایک عام آدمی کی بات کا اعتبار کیا جاتا ہے،اور محکمۂ فلکیات کی پیش گوئی کا اعتبار نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے تین چار عیدیں غلط شہادت کی وجہ سے ہوتی ہیں تو اس بابت یہ واضح رہے کہ شریعت میں رؤیت کے ثبوت اور اس کے متعلق گواہیوں کے رد و قدح کا اختیار قاضی شرعی کو یا اس کے قائم مقام مثلاً حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کو یا اس کی ذیلی کمیٹیوں کو ہے، ہر کسی کو شرعاً یہ اختیار نہیں ہے، ایک ہی ملک میں متعدد عیدوں کا ہونا بھی اسی شرعی ہدایت کو پسِ پشت ڈالنے کی وجہ سے ہے، نہ کہ عام آدمی کی گواہی کا اعتبار کرنے اور محکمۂ فلکیات کی پیش گوئی کا اعتبار نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تصوموا حتى تروا الهلال ولا تفطروا حتى تروه فإن غم عليكم فاقدروا له. وفي رواية قال: الشهر تسع وعشرون ليلة فلا تصوموا حتى تروه فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين."
(كتاب الصوم، باب رؤية الهلال، ج:1، ص:615، ط:المكتب الإسلامي)
ترجمہ:’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:چاند دیکھے بغیر روزہ نہ رکھو اور چاند دیکھے بغیر عید نہ کرو، اگر (آسمان) تم پر ابر آلود ہو جائے (یعنی چاند نظر نہ آئے) تو اس کا حساب پورا کرو،اور ایک روایت میں ہے:مہینہ انتیس راتوں کا ہوتا ہے، لہٰذا جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو، اگر تم پر (آسمان) ابر آلود ہو تو مہینے کی گنتی تیس دن پوری کر لو۔‘‘
وفیه أیضا:
"وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنا أمة أمية لا نكتب ولا نحسب، الشهر هكذا وهكذا وهكذا. وعقد الإبهام في الثالثة. ثم قال: الشهر هكذا وهكذا وهكذا. يعني تمام الثلاثين يعني مرة تسعا وعشرين ومرة ثلاثين."
(كتاب الصوم، باب رؤية الهلال، ج:1، ص:615، ط:المكتب الإسلامي)
ترجمہ: ’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہم ایک ان پڑھ (سادہ) امت ہیں، نہ لکھتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں، مہینہ (کبھی) یوں، یوں اور یوں ہوتا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار انگوٹھے کو موڑ کر اشارہ کیا (یعنی کبھی مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے)، پھر فرمایا:مہینہ (کبھی) یوں، یوں اور یوں ہوتا ہے، یعنی تیس دن پورے ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ کبھی مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا۔‘‘
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"يجب أن يلتمس الناس الهلال في التاسع والعشرين من شعبان وقت الغروب فإن رأوه صاموه، وإن غم أكملوه ثلاثين يوما كذا في الاختيار شرح المختار. وكذا ينبغي أن يلتمسوا هلال شعبان أيضا في حق إتمام العدد، وهل يرجع إلى قول أهل الخبرة العدول ممن يعرف علم النجوم الصحيح أنه لا يقبل كذا في السراج الوهاج، ولا يجوز للمنجم أن يعمل بحساب نفسه كذا في معراج الدراية....وإذا شهد على هلال رمضان شاهدان، والسماء متغيمة، وقبل القاضي شهادتهما وصاموا ثلاثين يوما فلم يروا هلال شوال إن كانت السماء متغيمة يفطرون من الغد بالاتفاق، وإن كانت مصحية يفطرون أيضا على الصحيح كذا في المحيط."
(کتاب الصوم، الباب الثاني في رؤية الھلال، ج:1، ص:197، ط:دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولا عبرة بقول المؤقتين، ولو عدولا على المذهب قال في الوهبانية وقول أولى التوقيت ليس بموجب. (قوله: ولا عبرة بقول المؤقتين) أي في وجوب الصوم على الناس بل في المعراج لا يعتبر قولهم بالإجماع، ولا يجوز للمنجم أن يعمل بحساب نفسه، وفي النهر فلا يلزم بقول المؤقتين أنه أي الهلال يكون في السماء ليلة كذا وإن كانوا عدولا في الصحيح كما في الإيضاح...أن الشارع لم يعتمد الحساب، بل ألغاه بالكلية بقوله نحن أمة أمية لا نكتب ولا نحسب الشهر هكذا وهكذا وقال ابن دقيق العيد: الحساب لا يجوز الاعتماد عليه."
(كتاب الصوم، مطلب لا عبرة بقول المؤقتين في الصوم، 2/ 387، ط: سعيد)
مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ ’’زبدۃ المقال فی رؤیۃ الہلال‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
"إذا ثبت الصوم أو الفطر عند حاکم تحت قواعد الشرع بفتوی العلماء أو عند واحد أو جماعة من العلماء الثقات ولاّهم رئیس المملکة أمر رؤیة الهلال، وحکموا بالصوم أو الفطر ونشروا حکمهم هذا في رادیو، یلزم علی من سمعها من المسلمین العمل به في حدود ولایتهم، وأما فیما وراء حدود ولایتهم فلا بد من الثبوت عند حاکم تلک الولایة بشهادة شاهدین علی الرؤیة أو علی الشهادة أو علی حکم الحاکم أو جاء الخبر مستفیضاً، لأن حکم الحاکم نافذ في ولایته دون ما وراءها."
(زبدۃ المقال في رؤیة الھلال بحوالة خیر الفتاوی، ج:4،ص:118، ط: مکتبة امدادیة)
جواہر الفقہ میں ہے:
’’اس سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ یہاں مسئلہ چاند کے وجود کا نہیں بلکہ اُس کے عام نگاہوں کے لئے قابل رؤیت ہونے کا ہے۔ اور دوربین کے ذریعہ شمسی شعاعوں سے مستور چاند کو دیکھ لینا یا بذریعہ ہوائی جہاز پرواز کر کے بادلوں سے اوپر جا کر چاند دیکھ لینا عام رؤیت کہلانے کا مستحق نہیں اور کسی چیز کا قابل رؤیت ہونا یا دیکھا جانا یہ مسئلہ نہ سائنس کا ہے نہ محکمہ موسمیات و فلکیات سے اس کا کوئی علاقہ ہے۔ یہ عام واقعاتی معاملہ ہے اگر کوئی شخص ایک معین وقت اور معین جگہ میں کسی واقعہ کے دیکھنے کا مدعی ہے اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ ہم اُس وقت وہاں موجود تھے ہم نے یہ واقعہ نہیں دیکھا تو اس کا فیصلہ نہ محکمہ موسمیات کے پاس جانے کی چیز ہے نہ محکمہ فلکیات وریاضیات سے اس کا کوئی تعلق ہے، اس کا فیصلہ اسلامی عدالتوں میں قاضی شرعی اور عام حکومتوں میں کوئی جج ہی کر سکتا ہے جو شاہدوں کے حالات اور بیانات کو پرکھ کر معتبر یا غیر معتبر شہادت کو پہچانے گا۔
ہاں اگر مسئلہ چاند کے وجود کا ہوتا تو بے شک وہ قاضی شرعی یا حج کے دیکھنے کی کوئی چیز نہیں، وہ ماہرین فلکیات ہی بتا سکتے ہیں، کوئی قاضی یا جج بھی اس مسئلہ کا فیصلہ کرتا تو ماہرین فلکیات کے بیان پر ہی کرتا۔‘‘
(رؤیت ہلال، مسئلہ چاند کے وجود کا نہیں رؤیت و شہود کا ہے، ج:3، ص:452، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612101348
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن