
ایک قادیانی شخص نے اپنی جائیداد اپنی قادیانی اولاد کے درمیان تقسیم کی ہے،اور جائیداد کی تقسیم کے اسٹامپ پیپر پر لفظ گفٹ اور لفظ ہبہ استعمال کیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا قادیانی لوگ لفظ ہبہ استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟
نوٹ : کا غذات منسلک ہیں ،جس میں ہبہ کا لفظ لکھا گیا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں لفظ ہبہ چوں کہ شعائر اسلام(اسلام کی وہ مخصوص علامات ہیں جن سے کسی شخص کا اسلام معلوم ہو اور جو شخص ان علامات کا اظہار کرے اسے مسلمان سمجھاجائے اور اسلامی وسماجی معاملات میں اس کے ساتھ مسلمانوں والا برتاؤ کیا جائے) میں سے نہیں ہے اور اسے لفظ گفٹ کے متبادل استعمال کیا جاتا ہے ؛اس لیے قادیانیوں کے لیے لفظ ہبہ استعمال کرنے میں شرعاً حرج نہیں ہے، تاہم چوں کہ قادیانی شریعت کی روسے زندیق اور مرتد ہے ،اورایسے لوگوں کے تصرفات(عقود تبادلہ وتبرعات)موقوف رہتے ہیں ،اور ہبہ بھی چوں کہ ایک عقدتبرع ہے،اس لیے شرعی طور پر قادیانیوں کا ہبہ موقوف رہے گا۔
ہدایہ کی شرح البنایۃ میں ہے:
"(شعائر الشرع وأحكامه) ش: الشعائر... وهو جمع شعارة، وقال الأصمعي: جمع شعيرة، وإليه مال السراج، والأولى هو الأول؛ لأن الشعيرة واحدة الشعير الذي هو من الحبوب؛ والشعيرة أيضا: البدنة تهدى. والشعارة كل ما جعل علما لطاعة الله تعالى. قال الجوهري: الشعائر: أفعال الحج، وكل ما جعل علما لطاعة الله عز وجل. ويقال: المراد بها: ما كان أداؤه على سبيل الاشتهار، كأداء الصلاة بالجماعة وصلاة الجمعة والعيدين، والأذان، وغير ذلك مما كان فيه اشتهار."
(مقدمة الكتاب، ج:1، ص:114، ط:دار الكتب العلميه، بيروت)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"فنقول - وبالله التوفيق: إن أهل الذمة يؤخذون بإظهار علامات يعرفون بها، ولا يتركون يتشبهون بالمسلمين في لباسهم ومركبهم وهيئتهم، فيؤخذ الذمي بأن يجعل على وسطه كشحا مثل الخيط الغليظ، ويلبس قلنسوة طويلة مضروبة ويركب سرجا على قربوسه مثل الرمانة، ولا يلبس طيلسانا مثل طيالسة المسلمين ورداء مثل أردية المسلمين، والأصل فيه ما روي أن عمر بن عبد العزيز رحمه الله مر على رجال ركوب ذوي هيئة فظنهم مسلمين فسلم عليهم، فقال له رجل من أصحابه: أصلحك الله، تدري من هؤلاء؟ فقال: من هم؟ فقال: هؤلاء نصارى بني تغلب فلما أتى منزله أمر أن ينادي في الناس أن لا يبقى نصراني إلا عقد ناصيته، وركب الإكاف."
(کتاب السیر، فصل في بيان ما يعترض من الأسباب المحرمة للقتال،ج: 7، ص: 117، ط:دار الإحیاء)
فتاوی مفتی محمود میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہوا ہے:
”اور مرتد کا حکم ساری دنیا کو معلوم ہے کہ اسے اسلامی مملکت میں آزادانہ نقل و حرکت کی بھی اجازت نہیں چہ جائیکہ اسے اسلامی شعائر کو پامال کرنے کی کھلی چھٹی دی جائے۔ بہر حال مرزائیوں کا اپنے عقائد کفریہ کے با وجود مسجد ، اذان اور دیگر اسلامی شعائر کو استعمال کرنا در حقیقت اسلام سے کھلا مذاق ہے۔ جس کی اجازت کسی حال میں نہیں دی جا سکتی۔ تاہم یہ فرض حکومت پر عائد ہوتا ہے کہ وہ مساجد اور دیگر اسلامی شعائر کے تقدس کو قادیانیوں کی دستبرد سے بچانے کا فرض انجام دے، عام مسلمانوں کو ہم مشورہ دیں گے کہ وہ از خود براہ راست ان امور میں مداخلت کر کے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور ملک میں امن امان کا مسئلہ پیدا نہ ہونے دیں، بلکہ اس کے لیے اسلامی عدالت کی طرف رجوع کریں ۔ فقط واللہ تعالی اعلم ۔“
(کتاب المساجد، ج:1، ص:205، ط:اشتیاق اے مشتاق پریس لاہور)
فتاوی شامی میں ہے:
(و) اعلم أن تصرفات المرتد على أربعة أقسام ف (ينفذ منه) اتفاقا........... ويتوقف منه) اتفاقا ما يعتمد المساواة، وهو (المفاوضة) أو ولاية متعدية (و) هو (التصرف على ولده الصغير. و) يتوقف منه عند الإمام وينفذ عندهما كل ما كان مبادلة مال بمال أو عقد تبرع ك (المبايعة) والصرف والسلم (والعتق والتدبير والكتابة والهبة) والرهن (والإجارة) والصلح عن إقرار، وقبض الدين لأنه مبادلة حكمية (والوصية) وبقي أمانه وعقله ولا شك في بطلانهما. وأما إيداعه واستيداعه والتقاطه ولقطته فينبغي عدم جوازها نهر (إن أسلم نفذ، وإن هلك) بموت أو قتل (أو لحق بدار الحرب وحكم) بلحاقه (بطل) ذلك كله
قوله ويتوقف منه عند الإمام) بناء على زوال الملك كما سلف نهر."
(کتاب الجھاد، باب المرتد، ج:4، ص: 250، ط:دارالفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101771
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن