بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قعدہ اخیرہ ادا کیے بغیر مغرب کی نماز پانچ رکعت پڑھانے کا حکم


سوال

نماز ِمغرب مؤذن نے پڑھائی ،وہ تیسری رکعت میں بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے اور 5 رکعت نماز پڑھا دی ،اگلے دن امام صاحب آئے تو ان سے پوچھا کہ ایسے نماز ہو جاتی ہے؟ انہوں نے کہا: "جی، تین فرض کے ساتھ 2 نفل کا اشتراک ہے اور نماز صحیح ہو گئی، آپ سے گزارش ہے کہ اس پر راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  موذن نے مغرب کی نماز میں چوں کہ قعدہ اخیرہ  (جو کہ فرض ہے)ادا کیے بغیر ہی پانچ رکعت نماز پڑھادی، تو  اس کی وجہ سے مغرب کی فرض نماز باطل ہوگئی ،از سرِ نو اس نماز کا اعادہ کا اعادہ کرنا لاز م ہوگا ،موذن پر لازم ہے کہ وہ مسجد میں اعلان کرے کہ فلاں دن کی مغرب کی نماز ادا نہیں ہوئی یا کسی جگہ پر اعلان آویزاں کرے کہ فلاں دن کی مغرب کی نماز  ادا نہیں ہوئی ،لہذا اس کا اعادہ کریں ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإن لم يقعد على رأس الرابعة حتى قام إلى الخامسة إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة عاد إلى القعدة، هكذا في المحيط. وفي الخلاصة: ويتشهد ويسلم ويسجد للسهو، كذا في التتارخانية.

وإن قيد الخامسة بالسجدة فسد ظهره عندنا، كذا في المحيط."

(كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو، فصل سهو الإمام يوجب عليه وعلى من خلفه السجود، ج:1، ص:129 ، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے :

"[تنبيه] لم يصرح بالمغرب كما صرح بالفجر والعصر مع أنه صرح به القهستاني، ومقتضاه أنه يضم إلى الرابعة خامسة، لكن في الحلية: لايضم إليها أخرى لنصهم على كراهة التنفل قبلها، وعلى كراهته بالوتر مطلقاً. اهـ.
قلت: ومقتضاه أنه إذا سجد للرابعة يسلم فوراً ولايقعد لها لئلا يصير متنفلاً قبل المغرب. وقد يجاب بما يشير إليه الشارح بأن الكراهة مختصة بالتنفل المقصود، فلا ضرورة إلى قطع الصلاة بالسلام؛ وأما أنه لايضم إليها خامسةً، فظاهر لئلايكون تنفلاً بالوتر فالأوجه عدم ذكر المغرب كما فعل الشارح. ثم رأيت في الإمداد قال: وسكت عن المغرب لأنها صارت أربعاً فلايضم فيها".

(كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ج:2، ص:86، سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100772

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں