
1۔ کیا ایسی چیز جس کے نہ ملنے کا یقین ہو گیا ہو اس کو مانگنا شریعت میں جائز ہے؟ جیسے کے اگر ایک جوان جس کی جسمانی طور پر بڑھنے کی امید ختم ہو گئی ہو یعنی قد بڑھنے کے متعلق جیساکہ کہا جاتا ہے کہ جب گروتھ پلیٹس ختم ہو جائیں یا دوسرے الفاظ میں فیوز ہو جائیں، جس پر ڈاکٹر لوگ کہتے ہیں کہ یہ اور نہیں بڑھ سکے گا (قد) تو کیا اس صورت میں قد بڑھنے کی دعا جائز ہے؟
2۔ بندے کا قد نارمل نہیں ہے، جس کی وجہ سے معاشرے میں لوگ نشانہ بناتے ہیں اور اس کی وجہ سے دن رات کی اذیت میں حال یہ ہوگیا ہے کہ ہر وقت اسی کےمتعلق سوچتا رہتا ہوں، جس کی وجہ سے ڈیپریشن کے مرض میں بھی مبتلا ہو گیا ہوں، کیا میرے لیے قد لمبا کرنے والی سرجری کرانا جائز ہے؟ جسے لمب لینتھننگ (limb lenghteninig سرجری کہتے ہیں ، البتہ اس میں خطرات شامل ہیں، مگر بندہ کا حال یہ ہو گیاہے کہ اس کو ایسی زندگی سے موت زیادہ عزیز ہے، دین میں صبر کی اہمیت کا اندازہ رکھتا ہوں، مگر حالت یہ ہو چکی ہے کہ لگاتار غم و فکر میں روتا رہتا ہوں، اس کے علاوہ دعا میں یہ دعا بھی شامل ہو گئی ہے کہ جب تک زندہ رہنا بہتر ہو اللہ زندہ رکھنا اور جب موت بہتر ہو تو ایمان کے ساتھ عطا کر دیجیے گا، براہ کرم راہ نمائی فرمادیں؟
1۔واضح رہے کہ ہر جائز امر میں اللہ سے مدد مانگنا اور دعا کرنا جائز ہے، چاہے اُس کام کے ظاہری اسباب ختم ہی کیوں نہ ہوگئے ہوں۔ انسان کو چاہیے کہ اس حوالے سے دل میں ناامیدی یا مایوسی نہ آنے دے، کیونکہ اللہ کی قدرت بے حد و بے شمار ہے، اور وہ چاہے تو ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے۔نیزجو بندہ بھی اللہ سے دعا مانگتا ہے وہ قبول ہوتی ہے،دعا کے قبول ہونے کے لیے کسی قسم کی کوئی شرائط نہیں ہیں،یہاں تک کہ مسلمان ہونا بھی قبولیتِ دعا کے لیے شرط نہیں ہے،بلکہ کافر کی دعا کوبھی اللہ تعالی قبول فرماتا ہے،لیکن بسا اوقات انسان دعا مانگتا ہےاور وہ قبول ہوتی نظرنہیں آتی،اس سے متعلق مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ اپنی شہرۂ آفاق تفسیر معارف القرآن میں لکھتے ہیں:
”جو بندہ اللہ سے دعا مانگتاہےوہ قبول ہوتی ہےمگر بعض اوقات انسان یہ بھی دیکھتا ہے کہ دعا مانگی وہ قبول نہیں ہوئی۔ اس کا جواب ایک حدیث میں ہے ،جو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان جو بھی دعا اللہ سے کرتا ہے اللہ اس کو عطا فرماتا ہے ۔ بشرطیکہ اس میں کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعاء نہ ہو، اور قبول فرمانے کی تین صورتوں میں سے کوئی صورت ہوتی ہے ایک یہ کہ جو مانگا وہی مل گیا، دوسرے یہ کہ اس کی مطلوب چیز کے بدلے اس کو آخرت کا کوئی اجر و ثواب دےدیا گیا ۔ تیسرے یہ کہ مانگی ہوئی چیز تو نہ ملی مگر کوئی آفت و مصیبت اس پہ آنے والی تھی وہ ٹل گئی ۔ (مسند احمد، مظہری) “
مندرجہ بالا اقتباس سے واضح ہوا کہ جب تک دعا کی قبولیت میں کوئی رکاوٹ نہ ہوتو ہر شخص کی دعاقبول ہوتی ہے، اگرچہ قبولیت کااثر تین مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں قد بڑھنے کی دعا کرنا بالکل جائز ہے، چاہے ظاہری اسباب ختم ہی کیوں نہ ہوگئے ہوں۔ اللہ کے ہاں کوئی چیز ناممکن نہیں، اور بندے کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی، ہاں! اس کا اثر مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے ظاہری نتیجہ نہ دیکھ کر مایوسی یا ناامیدی کا گمان کرنا درست نہیں۔ مومن کا کام مانگنا اوراللہ کی قدرت پر یقین رکھنا ہے کہ وہ چاہے تو سب بدل سکتا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ انسان شکر، صبر اور دل کا اطمینان بھی قائم رکھے، اور اپنے اخلاق و کردار کی خوب صورتی پر توجہ دے،کیوں کہ اصل کمال اسی میں ہے۔
2۔سرجری جسمانی اعضاء میں سے کسی بھی عضو کو بڑا کرنے کے لیے ہو یا چھوٹا کرنے کے لیے، اگر واقعتاً کسی بیماری یا کسی ایسے عیب(چاہے پیدائشی ہو یا کسی حادثے کے نتیجے میں لاحق ہوا ہو) کو دور کرنے کے جس سےغیر معمولی جسمانی یا روحانی تکلیف ہوتی ہو،(جسمانی تکلیف سے مراد یہ ہے کہ اس عضو میں غیر معمولی تکلیف ہو یا اس کے فطری عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہو، مثلا:ناک اتنا دبا ہوا ہو کہ جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہو،وغیرہ ، اور روحانی تکلیف کا مطلب یہ ہے کہ وہ عیب اس طرح کا ہو کہ اس کی وجہ سے انسان دوسروں سے الگ دکھتا ہو ، اوراسے مذاق و استہزاء کا نشانہ بنایا جاتا ہو )۔
شرعی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے چوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خلقت کو بدلنے کے تحت داخل نہیں ہے اس ليے ایسی صورتوں میں سرجری کروانا جائز ہے، تاہم فقہاء کرام نے سرجری کروانے کے لئےمتعدد شرائط بیان فرمائی ہیں، ان شروط کے فقدان کی صورت میں کسی بھی عضو کی سرجری کرانا جائز نہ ہوگا:
1۔سرجری کرانے کی شدید مجبوری ہوکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ ہو۔
2۔ڈاکٹر کو مریض کی صحت یابی کا غالب گمان ہو، غالب گمان کے بغیر سرجری کروانا جائز نہ ہوگا۔
3۔کسی عضو کی خلقت ہیئت اصلیہ کو تبدیل نہ کیا جارہا ہو۔
4۔اس سرجری سے مقصود دھوکہ دہی نہ ہو۔
5۔اس سرجری پر کوئی ضرر مرتب نہ ہوتا ہو۔
6۔اس سرجری سے ایک جنس کی مشابہت دوسری جنس سے نہ ہوتی ہو۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کا قد اس حد تک کم ہے کہ اس کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے،اور وہ مسلسل مذاق اور استہزاء کا نشانہ بن رہا ہو، تو ایسی شدید ضرورت میں درج بالا شرائط کا لحاظ کرتے ہوئےلمب لینتھننگ سرجری کروانا سائل کے لیے جائزہوگا۔
قرآن مجید میں ہے:
"اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ()(سورہ اعراف:آیت:55)"
ترجمہ:”تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو تذلل ظاہر کرکے بھی اور چپکے چپکے بھی ،واقعی اللہ تعالی ان لوگوں کو نا پسند کرتے ہیں جو حد سے نکل جاویں۔“ (بیان القرآن)
"وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ- (سورہ مومن: آیت:60)"
ترجمہ:”اور تمہارے پروردگار نے فرمادیا ہے کہ مجھ کو پکارو میں تمہاری درخواست قبول کرلوں گا۔“ (بیان القرآن)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے :
"وعن أبي ريحانة - رضي الله عنه - قال: " «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن عشر: عن الوشر، والوشم ......................إلخ
(قال: نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن عشر) : أي خصال (عن الوشر) ۔۔۔ وهو على ما في النهاية تحديد الأسنان وترقيق أطرافها، تفعله المرأة الكبيرة تتشبه بالشواب. قال بعضهم وإنما نهى عنه لما فيه من التغرير وتغيير خلق الله تعالى)."
(کتاب اللباس، ج:7، ص:2786، رقم:4355، ط:دار الفكر)
وفيه أيضا:
"قال النووي: فيه إشارة إلى أن الحرام هو المفعول لطلب الحسن، أما لو احتاجت إليه لعلاج أو عيب في السن ونحوه فلا بأس به."
(کتاب اللباس، باب الترجل، ج:7، ص:2819، ط:دار الفکر)
فتاوی عالمگیری میں ہے :
"إذا أراد الرجل أن يقطع إصبعا زائدة أو شيئا آخر قال نصير - رحمه الله تعالى - إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك رجل."
(كتاب الكراهية، الباب الحادي والعشرون۔۔۔، ج:5، ص:360، ط:دار الفکر)
احکام جراحۃ التجمیل فی الفقہ الاسلامی میں ہے:
"هذه هي الأحكام المتعلقة بجراحة التجميل حاولت جهدي في استخراج مسائلها وتحرير عللها واستخلاص القواعد الكلية الضابطة لها. وهذه القواعد هي:
1 - الجراحة تعذيب وإيلام للإنسان الحي، فلاتجوز إلا لحاجة أو ضرورة.
2 - أن يتعين على الإنسان إجراء العملية الجراحية، بحيث لاتوجد وسيلة أخرى تقوم مقام تلك العملية في سدّ الحاجة أو دفع الضرورة.
3 - أن يغلب على ظنّ الطبيب نجاح تلك العملية، فلايجوز له اتخاذ جسم الإنسان محلاً لتجاربه.
4 - أن لايكون فيها تغيير للخلقة الأصلية المعهودة، فلايجوز تغيير هيئة عضو من الأعضاء بالتصغير أو التكبير إذا كان ذلك العضو في حدود الخلقة المعهودة.
5 - أن لايكون فيها مثلة وتشويه؛ لجمال الخلقة الأصلية المعهودة.
6 - أن لايكون فيها تدليس وغش وخداع، فلايجوز للمرأة العجوز إجراء عملية جراحية بقصد إظهار صغر السن.
7 - أن لايترتب عليها ضرر أكبر كإتلاف عضو.
8 - أن لاتكون بقصد تشبه أحد الجنسين ( الذكر والأنثى ) بالآخر.
(الخاتمة، ص:53، ط: كلية الشريعة والدراسات الاسلامية جامعة الكويت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611100478
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن