
فریق اول نے 200 پارسل دودھ حب چوکی گودام میں فریق دوم کو فروخت کیا، فریق دوم نے فریق اول کو 10 لاکھ روپے نقد ادا کیے اور بقیہ رقم كے ليے آٹھ دن کا وقت لیا، فریق دوم نے 200 میں سے 100 پارسل اٹھا لیے اور باقی 100 پارسل گودام میں رہے، پھر گودام پر کسٹم والوں کا چھاپا پڑا، اور کسٹم والے وہ 100 پارسل لے گئے، اب سوال یہ ہے کہ یہ جو 100 پارسل دودھ کسٹم نے ضبط کیا ہے یہ مال کس کی ملکیت میں شمار ہوگا اور اس کا نقصان کس کے ذمے آئے گا؟
صورتِ مسئولہ میں جب خریدار (فریق دوم) نے صرف سو پارسل دودھ پر قبضہ کیا تھا اور بقیہ سو پارسل دودھ اب تک فروخت کنندہ (فریق اول) کے گودام میں تھا تو ایسی صورت میں جو نقصان ہوا وہ نقصان فریق اول (فروخت کنندہ) کا شمار ہو گا اور فریق اول (فروخت کنندہ) کو فریقِ دوم (خریدار) سے صرف سو پارسل دودھ کی رقم وصول کرنے کا حق ہے، اگر زائد رقم وصول کر لی ہو تو اس کے ذمہ زائد رقم لوٹانا ضروری ہو گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"اشترى دابة مريضة في إصطبل البائع، فقال المشتري: تكون هنا الليلة، فإن ماتت ماتت لي فهلكت، هلكت من مال البائع لا من مال المشتري كذا في فتاوى قاضي خان".
(كتاب البيوع، الباب الرابع في حبس المبيع بالثمن، الفصل الثاني في تسليم المبيع وفيما يكون قبضا وفيما لا يكون قبضا، ج: 3، صفحہ: 20، ط: دارالفکر)
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:
"لو هلك المبيع قبل القبض في يد البائع لا يجب على البائع شيء ويسقط حقه من الثمن."
(كتاب الكفالة ، جلد : 1 ، صفحه : 314 ، طبع : المطبعة الخيرية)
مرشد الحیران الی معرفۃ احوال الانسان میں ہے:
"إذا هلك المبيع عند البائع بفعله أو بفعل المبيع أو بآفة سماوية بطل البيع ويرجع المشتري على البائع بالثمن إن كان مدفوعاً."
(الكتاب الثاني ، كتاب البيع ، صفحه : 59 ، طبع : المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100525
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن