
قبر ستان کی حفاظتی دیوار لگانے کا کیا حکم ہے اور اس میں کتنا ثواب ہے؟
بصورت مسئولہ قبروں کی حفاظت کی غرض سے قبرستان کے اردگرد حفاظتی دیوار لگانا جائز ہے ، یہ کارخیر ان شاءاللہ تعالیٰ باعث ثواب بھی بنے گا۔تاہم پختہ قبریں بنانا شرعاً ناجائز ہے۔
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
"قال في الشرح وقد اعتاد أهل مصر وضع الأحجار حفظا للقبور عن الإندارس والنبش ولا بأس به."
(كتاب الصلاة، ص:611، ط:دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے :
"سوال: (۹۹۲)..... ( الف ) حیدر آباد کے مشہور قدیم قبرستان جو علاوہ غیر محصور اور گذرگاہ عوام میں غیر محفوظ ہونے کے، تکیہ داروں کی عدم نگرانی میں ایسی خستہ اور خراب حالت میں ہیں کہ قبور کی شکست وریخت کی نہ مرمت کی جاتی ہے، اور نہ اسباب شکست وریخت میں ان کو محفوظ کرنے کی کوئی تدبیر اختیار کی جاتی ہے؛ برخلاف اس کے ان تکیہ داروں کی لالچ کی یہاں تک نوبت پہنچی ہے کہ زمین کا ناجائز معاوضہ حاصل کرکے، ایک ایک قبر میں کئی کئی میں دفن کی جاتی ہیں؛ حالانکہ ایسا فعل احترام قبور کے بالکل خلاف، اور ایسی زمین کا معاوضہ ( جو وقف ہے ) بالکل نا جائز معلوم ہوتا ہے، اور قبور کی بے حرمتی اس حد تک ہوتی ہے کہ قبرستان میں سیندھی اور شراب کے علانیہ جلسے ہوتے ہیں، اور ایسی نجس مشروبات کا سیلاب اور دیگر افعال شنیعہ کا ارتکاب وہاں ہوتا ہے؛ نظر بریں حالات اگر ان قبرستانوں کی اس طرح اصلاح کی جائے کہ ان کو محصور کر کے درست قبور کو علی حالہ قائم رکھ کر، شکستہ قبور کی مرمت ___به لحاظ اس کے کہ پختہ قبور شرعا جائز ہی نہیں ہیں ___ اس طرح کی جائے کہ ان پر ہری گھاس کا پتا لگایا جائے، اور اطراف و جوانب کی ناہموار زمین کو ہموار کر کے اس پر بھی پتا لگایا جائے، اور اقسام کے پھول کے درخت خوشبو اور آرائش کی غرض سے نصب کیے جائیں تو کیا یہ شرعاً جائز اور بہتر نہ ہو گا ؟
الجواب: (الف)احترام قبور مسلمین ضروری ہے، اور جو امور مخل احترام ہیں ان کی ممانعت احادیث میں وارد ہے؛ پس جو امر سبب حفاظت قبور اور باعث احترام اموات ہو وہ شرعا مامور بہ اور مستحب اور موجب اجر و ثواب ہے۔
قال عليه الصلوة والسلام" كسر عظم الميت ككسره حياً. وفي المرقاة: قوله ككسره حيا يعني في الإثم كما في رواية. قال الطيبي: إشارة إلى أنه لا يهان ميتا، كما لا يهان حيا. قال ابن الملك: وإلى أن الميت يتألم. قال ابن حجر: ومن لازمه أنه يستلذ بما يستلذ به الحي اهـ. وقد أخرج ابن أبي شيبة عن ابن مسعود قال: أذى المؤمن في موته كأذاه في حياته رواه مالك وأبو داود.وعن جابررضي الله عنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تجصص القبور وأن يكتب عليها وأن يبني عليها وأن توطأ رواه الترمذى."
پس جو صورت سوال میں اصلاح قبرستان اور احترام اموات اور صفائی اور نظافت قبور کے متعلق درج ہے وہ جائز اور مستحب ہے۔ ( مگر زیب وزینت اور تکلف قبور پر منع ہے۔)
(وقف کا بیان، مسلمانوں کی قبروں کا احترام ضروری ہے، ج:۱۴، ص:۱۵۶-۱۵۷، ط:مکتبہ دارالعلوم دیوبند)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612101499
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن