
ایک محدود زمین جو تقریبا 40 -41 سال پہلے قبرستان کے لیے وقف کر دی گئی ہے، لیکن اب بات یہ ہے کہ گاؤں کے چند لوگوں نے اسی وقف شدہ زمین کے آخری کونے سے ایک گلی نکالی ہے؛ تاکہ لوگ آنے جانے کے لیے اس کو استعمال کریں، تو کیا وقف شدہ زمین میں سے کسی کے لیے راستہ نکال لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسے لوگوں کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ عام راستہ موجود ہے اور یہ راستہ لوگ اپنی گزرگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، یعنی: بازار وغیرہ جانے کے لیے، یہ راستہ قبرستان جانے والوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہا بلکہ وہ دوسرا عام راستہ ہے۔
صورتِ مسئولہ میں قبرستان کی زمین کو بلا ضرورت عام راستہ بنا دینا درست نہیں ہے، وقف شدہ جگہ کو اس کو اپنے مصرف میں ہی استعمال کرنا ضروری ہے ۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وسئل هو أيضاً عن المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق فيها أثر الموتى لا العظم ولا غيره، هل يجوز زرعها واستغلالها؟ قال: لا، ولها حكم المقبرة".
(كتاب الوقف، الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض،2 / 470، ط: دار الفكر)
فتاوی محمودیہ میں ہے :
"اگر قبرستان وقف ہو تو وہاں کو راستہ، سڑک بنانا درست نہیں۔"
(کتاب الوقف، جلد : 15 ، صفحہ : 395 ، ط : دار لافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)
کفایت المفتی میں ہے :
"کوئی جدید راستہ قبرستان کی زمین میں سے دینا درست نہیں۔"
(کتاب الوقف ، جلد : 7 ، صفحہ : 110 ، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611102665
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن