بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرستان کے لیے وقف شدہ زمین پر مسجد بنانا جائز نہیں


سوال

ہمارے علاقے میں چار مختلف قوموں نے قبرستان کے لیے ایک بہت بڑی زمین وقف کی ہے اور اس میں ابھی بھی تدفین کی جا رہی ہے ایسی زمین میں عید اور جنازہ گاہ کے لیے ایک جگہ خاص کی ہے اور اسی وقف شدہ قبرستان میں سے بہت عرصے پہلے علاقے کے بڑوں نے افغان مہاجرین کے لیے ایک چھوٹی سی جگہ عارضی طور پر مصلی بنانے کی اجازت دی تھی اور یہ جگہ اسی وقف شدہ عید گاہ اور جنازہ گاہ کے قریب میں واقع ہے۔

اب یہی جگہ جو کہ عارضی مصلی تھی، علاقے کے چند لوگ اس کو مسجد بنانا چاہتے ہیں اور اس میں تو مزید توسیع کرنا چاہتے ہیں اور جس جگہ توسیع کرنا چاہتے ہیں وہ قبرستان کے لئے وقف شدہ ہے۔ اور اس میں اس علاقے کے کچھ واقفین مخالف اور ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں -

اب سوال یہ ہے کہ یہ جگہ جو کہ عارضی مصلیٰ تھی، اس کو مسجد بنانا اور اس میں وقف شدہ کی زمین میں توسیع کرنا جائز ہے یا جائز نہیں ہے ؟اور جو کچھ واقفين  مخالف اور ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کے بیان کے مطابق زمین قبرستان کے لیے وقف ہے، لہذاجب زمین کو قبرستان کے لیے وقف کیا گیا ہے تو اسے مسجدِ شرعی میں تبدیل کرنا یا اس زمین کے کسی ٹکڑے میں مسجد تعمیر کرناجائز نہیں ہے، اگر وہاں مصلی پر نماز ہوتی ہے تو اسے جاری رکھا جا سکتا ہے،لیکن وہ مسجد شرعی نہیں ہوگی۔

فتاویٰ رحیمیہ میں ایک سوال کے جواب میں ہے:

" (الجواب)حامدا و مصلیا ومسلما۔ یہ بات سمجھ لی جائے کہ واقف نے جس مقصد سے اپنی زمین وقف کی ہو ، اس وقف شدہ زمین کا استعمال واقف کی منشاء کے مطابق ہونا ضروری ہے ، اس میں  تبدیلی کرنا اور واقف کی منشاء کے خلاف عمل کرنا جائز نہیں  ہے ،شامی میں  ہے: شرط الواقف کنص الشارع (شامی ۳/۵۷۵  )نیز شامی میں  ہے :صرحوابان مراعاۃ غرض الواقفین واجبة(شامی ۳/ ۵۸۵)قبرستان مردوں  کی تدفین کے لئے وقف ہوتا ہے ، لہذا قبرستان کی پوری زمین اسی مقصد میں  استعمال ہونا چاہئے، اس کے علاوہ دوسرے کاموں  میں  وقف قبرستان کی زمین استعمال کرنا درست نہیں   ۔"

(فتاوی رحیمیہ، عنوان :قبرستان کی زمین پر آمدنی کے لیے تعمیر کرنا، ج:9،ص:64،ط:دارالاشاعت)

فتاوی شامی میں ہے:

"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به."

 (کتاب الوقف، ج: 4، ص: 433، ط: سعید)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

" إذا صحّ الوقف خرج عن ملک الواقف ، وصار حبیسًا علی حکم ملک الله تعالی ، ولم یدخل في ملک الموقوف علیه ، بدلیل انتقاله عنه بشرط الواقف (المالک الأول) کسائر أملاکه ، وإذا صحّ الوقف لم یجز بیعه ولا تملیکه ولا قسمته."

(الباب الخامس الوقف ، الفصل الثالث حکم الوقف، ج: 10، ص: 7617، ط: دار الفكر) 

وفیه أیضاً:

"مطلب مراعاة غرض ‌الواقفين واجبة."

(کتاب الوقف، مطلب في المصادقة على النظر، ج: 4، ص: 445، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعًا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لايجوز كذا في الغياثية."

(کتاب الوقف، الباب الثاني فيما يجوز وقفه وما لا يجوز وفي وقف المشاع، ج: 6، ص: 362، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101875

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں