بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرستان کے قیمتی درختوں کا حکم


سوال

وقف قبرستانی میں قیمتی درخت  کے کاٹنے اور اس کی لکڑی کو مسجد مدرسہ وغیرہ میں استعمال کرنے، لکڑی فروخت کرکے رقم مسجد میں  لگانے کا کیا حکم ہے جبکہ اس لکڑی کی قبرستان کی چار دیواری میں استعمال کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں قبرستان میں موجود درختوں کو کاٹ کر اس کی لکڑی یا لکڑی کو فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم کو قبرستان کی ضرورت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ قبرستان میں استعمال کی جب حاجت ہے تو پھر اس کو مسجد یا مدرسہ میں  لگانے  کی اجازت نہیں ہوگی۔ہاں جب قبرستان میں لگانے حاجت نہ ہو تو پھر قبرستان انتظامیہ اپنی صوابدید پر لکڑی یا لکڑی سے حاصل ہونے والی رقم کو مسجد یا مدرسہ میں خرچ کرسکتی ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"مقبرة عليها أشجار عظيمة فهذا على وجهين: إما إن كانت الأشجار نابتة قبل اتخاذ الأرض أو نبتت بعداتخاذ الأرض مقبرة. ففي الوجه الأول المسألة على قسمين: إما إن كانت الأرض مملوكة لها مالك، أو كانت مواتا لا مالك لها واتخذها أهل القرية مقبرة، ففي القسم الأول الأشجار بأصلها على ملك رب الأرض يصنع بالأشجار وأصلها ما شاء، وفي القسم الثاني الأشجار بأصلها على حالها القديم. وفي الوجه الثاني المسألة على قسمين: إما إن علم لها غارس أو لم يعلم، ففي القسم الأول كانت للغارس، وفي القسم الثاني الحكم في ذلك إلى القاضي إن رأى بيعها وصرف ثمنها إلى عمارة المقبرة فله ذلك، كذا في الواقعات الحسامية."

(کتاب الوقف ج نمبر ۲ ص نمبر ۴۷۳،دار الفکر)

و فیہ ایضا:

"سئل نجم الدين في مقبرة فيها أشجار هل يجوز صرفها إلى عمارة المسجد؟ قال: نعم، إن لم تكن وقفا على وجه آخر قيل له: فإن تداعت حيطان المقبرة إلى خراب يصرف إليها أو إلى المسجد قال: إلى ما هي وقف عليه إن عرف وإن لم يكن للمسجد متول ولا للمقبرة فليس للعامة التصرف فيها بدون إذن القاضي، كذا في الظهيرية."

(کتاب الوقف ج نمبر ۲ ص نمبر ۴۷۷،دار الفکر)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

"مسلمان دیہہ کی رضامندی سے وہ درخت فاضل قبرستان کے فروخت کر کے دوسرے مصارف خیر میں مثل مسجد و مسافر خانہ وغیرہ میں ان کی قیمت صرف کرنا درست ہے الخ۔"

(کتاب الوقف ج نمبر ۱۴ ص نمبر ۱۸۳،دار الاشاعت)

 کفایت المفتی میں ہے:

"قبرستان کی زمین اگر مملوکہ ہو  ۔۔۔ اگر مملوکہ نہیں وقف ہے اور درخت زمین کے وقف ہونے کی حالت میں خود اگے ہوں تو اہل مقبرہ اس میں تصرف کرنے کے مجاز ہیں الخ"

(کتاب الوقف ج نمبر ۷ ص نمبر ۱۱۵،دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101857

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں