
ہم تقریباً دس چچازاد بھائی اپنے اہل و عیال کے ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا سے شفٹ ہوکر کراچی میں عرصہ دراز سے مقیم ہیں۔ یہاں آبادی کی کثرت کی وجہ سے عام قبرستانوں میں جگہ کا شدید فقدان ہے، اور بسا اوقات تدفین کے لیے مناسب جگہ ملنا نہایت دشوار ہوجاتا ہے۔
اس صورتِ حال کے پیش نظر ہم آپس میں مشورہ کر رہے ہیں کہ کسی مناسب مقام پر زمین خرید کر اسے اپنے خاندان کے لیے مشترکہ قبرستان کے طور پر مخصوص کرلیں، تاکہ آئندہ تدفین کے وقت دشواری پیش نہ آئے۔از راہِ کر ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں:
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ خاندان قبرستان کے لیے مشترکہ طور پر زمین خریدنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ رقم کی تعیین کے بغیر چندہ کیا جائے، اور ہر آدمی خوشی جو رقم دے اس سے زمین خرید کر اسے اسی خاندان کے نام وقف کر دیا جائے۔ ایسی صورت میں اس خاندان کے علاوہ کسی اور کی میت کو اجازت کے بغیر وہاں دفن کرنا جائز نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة."
(کتاب الوقف، ج:4، ص:445، ط:سعید)
وفیه أیضاً:
"فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء ولو كان الوضع في كلهم قربة".
(کتاب الوقف، ج:4، ص:343، ط:سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وإذا قال: أرضي صدقة موقوفة على بني فلان على أن أفضل من شئت منهم كان ذلك جائزا".
(کتاب الوقف، الباب الرابع فيما يتعلق بالشرط في الوقف، ج:2، ص:404، ط:دار الفکر)
وفیه أیضاً:
"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناءً و وقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعاً لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه، والأصح أنه لا يجوز، كذا في الغياثية".
(كتاب الوقف، الباب الثانی فیما یجوز وقفه، ج:2، ص:362، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144709100143
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن