
ایک وقف شدہ قبرستان ہے، جس میں خود رو درخت ہیں، کیا ان درختوں کو کاٹ کر مسجد و مدرسے میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ قبرستان میں ان درختوں کے استعمال کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ قبرستان دو ڈھائی سو سال پرانا ہے، ان درختوں کی نہ ابھی اور نہ بعد میں چل کر قبرستان کو کوئی ضرورت ہوگی، لیکن اتنی بات ہے کہ ان درختوں کے کاٹنے سے قبرستان کی زینت ختم ہو جاتی ہے اور ان درختوں کو کاٹ کر علاقے والے اس سے تابوت وغیرہ بھی بناتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی وہ درخت زائد ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر قبرستان میں موجود درخت قبرستان کی ضرورت سے زائد ہیں اور قبرستان کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو متولی کی اجازت سے قبرستان کے درختوں کو مسجد یا مدرسہ میں لگا سکتے ہیں، اگر قبرستان کا کوئی متولی نہ ہو تو علاقہ کی مجاز سرکاری انتظامیہ کی اجازت سے مسجد میں لگائے جا سکتے ہیں۔
المحیط البرہانی میں ہے:
"سئل نجم الدين عن أشجار في مقبرة هل يجوز صرفها في عمارة المسجد؟ قال: نعم إن لم تكن وقفا على وجه آخر، قيل له: فإن تداعت حوائط المقبرة إلى الخراب إنصرف اليها أو إلى المسجد قال: إلى ما وقفت عليه إن عرف وإن لم يكن للمسجد متولي ولا للمقبرة فليس للعامة التصرف فيها بدون إذن القاضي."
(كتاب الوقف ، الباب الثالث والعشرون، جلد : 6 ، صفحه : 223 ، طبع : دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101793
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن