بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کے قبرستان جانے، قبرستان جانے کو لازم سمجھنے، نہ جانے والوں پر لعن طعن کرنے کا حکم


سوال

اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کی قبروں کی زیارت کے لیے عورتوں کا جانا جائز ہے یا نہیں؟ نیز ہمارے عرف میں عید کے دن زیارتِ قبور کا رواج ہے،عید کے دن اکثر مرد ، عورتیں اپنے عزیزوں کی قبروں کی زیارت کے لیے جاتے ہیں، اور دعا کر کے واپس آتے ہیں، عام طور پر عید کے دن قریبی قبرستان میں فجر کی نماز کے بعد لوگ حاضر ہوتے ہیں،اور دور قبرستان میں وقت نکال کر ظہر تک یا اس کے بعد جاتے ہیں، اور عید کے دن قبروں پر نہ جانے والوں کو گویا کہ برا سمجھا جاتا ہے، اور سخت دل گمان کیا جاتا ہے، اس لیے مرد و عورتیں سب ہر ممکن کوشش کرکے قبروں کی زیارت اور دعا کے لیے جاتے ہیں، اس طرح قبروں کی زیارت کرنے کی شریعت میں گنجائش ہے کہ نہیں؟ نیز عورتیں عید کے دن اپنے عزیزوں کی قبروں پر جا سکتی ہیں یا نہیں؟ اسی طرح عید کے دن کو خاص کر نا ناپسند عمل تو نہیں ہے؟ اور یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ اگر قبروں کی زیارت نہ کی جائے تو عزیزوں کی ارواح ناراض رہتی ہیں، جب تک قبروں کی زیارت کر کے ان کے لیے دعا نہ کی جائے، لہذا اس سلسلے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں!

جواب

 صورتِ مسئولہ میں نوجوان خواتین کے لیے قبرستان جانا مکروہ ہے، تاہم بوڑھی خواتین کے لیے عبرت اور تذکرہ آخرت کے لیے قبرستان جانے کی گنجائش ہےاگر قبرستان میں خلافِ شرع امور کا ارتکاب نہ کریں۔

 اگر کسی بھی خاتون میں تحمّل کم ہو، اور وہ قبرستان جاکر بے صبری کی حالت میں روئے، یا کوئی بھی خلافِ شرع کام کرے، تو ایسی خواتین کے لئے(چاہے وہ نوجوان ہو یا بوڑھی ہو)  قبرستان جانا ہی جائز نہیں ہے، ایسی خواتین کا قبرستان جاناہی گناہ ہے، حدیث شریف میں بھی ایسی عورتوں(یعنی جو قبرستان میں جاکر جزع فزع اور خلاف شرع امور کا ارتکاب کرے) پر لعنت وارد ہوئی ہے، جیسے کہ مروی ہے:

"عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن زوارات القبور. رواه أحمد والترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث حسن صحيح

وقال: قد رأى بعض أهل العلم أن هذا كان قبل أن يرخص النبي في زيارة القبور فلما رخص دخل في رخصته الرجال والنساء. وقال بعضهم: إنما كره زيارة القبور للنساء لقلة صبرهن وكثرة جزعهن. تم كلامه."

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الجنائز، باب زيارة القبور، رقم الحدیث:1770، ج:1، ص:554، ط:المکتب الاسلامی)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبروں پر زیادہ جانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ) اور حضرت امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

نیز انھوں نے فرمایا کہ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ یہ یعنی قبروں پر جانے والی عورتوں پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعنت فرمانا) اس وقت تھا جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبروں پر جانے کی اجازت عطا فرما دی تو اس اجازت میں مرد و عورت دونوں شامل ہوگئے۔ اس کے برخلاف بعض علماء کی تحقیق یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں میں صبر و تحمل کے مادہ کی کمی اور جزع و فزع یعنی رونے دھونے کی زیادت کی وجہ سے ان کے قبروں پر جانے کو ناپسند فرمایا ہے۔ (لہٰذا عورتوں کے لیے یہ ممانعت اب بھی باقی ہے) ترمذی کی بات پوری ہوئی۔ 

نیز عید کا دن خوشی اور مسرت کا ہوتا ہے، بسااوقات  خوشی میں مصروف ہوکر آخرت سے غفلت ہوجاتی ہے اور زیارتِ قبور سے آخرت یاد آتی ہے، اس لیے اگرکوئی شخص عید کے دن  قبرکی زیارت کرے تومناسب ہے، کچھ مضائقہ نہیں؛ لیکن اس کو لازم اور ضروری سمجھنا   خواہ یہ  التزام  عملاً ہی سہی جس سے دوسروں کو یہ شبہ ہو کہ یہ چیز لازمی اور ضروری ہے، درست نہیں؛ نیز اگر کوئی شخص اس دن زیارتِ قبور نہ کرے تو اس پرطعن کرنا یا اس کو حقیر سمجھنا درست نہیں، اس حوالے سے احتیاط لازم ہے۔(مستفاد از فتاویٰ محمودیہ 9/202،ط:فاروقیہ )

بہرحال عید کے دن قبرستان جانےکاالتزام کرنا،ہرسال اسے لازم اورضروری سمجھنااور نہ جانے والوں کو برا سمجھنا، درست نہیں ہے۔

اسی طرح اپنے مرحومین کو ایصالِ ثواب کرنا شرعاً درست و ثابت ہے، اور  ایصالِ ثواب کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی بھی نیک کام کرنے کے بعد جو ثواب ملتا ہے، وہ اپنے مرحومین میں سے جس کو پہنچانا چاہتے ہیں  پہنچا دیں۔ اور یہ کہیں کہ: اے اللہ! اس نیک کام، مثلاً: تلاوت، نماز، درود شریف، ذکرواذکار، اور صدقہ  و خیرات  سے جو ثواب ملا ہے وہ فلاں فلاں  شخص تک پہنچا دیں تو ثواب پہنچ جاتا ہے۔ظاہر ہے اس سے مرحومین کو فائدہ پہنچتا ہے، تو ان کی اوراح کو خوشی ہوتی ہے، اور یہ قبرستان جا کر یا کہیں سے بھی کیا جا سکتا ہے، اور عموماً جب قبرستان جاتے ہیں ،تو مرحومین کو سلام کے بعد کچھ نا کچھ ایصالِ ثواب کیا ہی جاتا ہے، جس سے مرحومین کی ارواح کو اُنسیت اور خوشی ہوتی ہے، ورنہ محض قبرستان جانے سے ارواح خوش ہوتی ہیں، یہ کہنا درست نہیں۔

بذل المجہود شرح سنن ابی داود میں ہے:

"قلت: وفي رواية عائشة - رضي الله عنها - عند مسلم  قالت: "كيف أقول يا رسول الله؟ تعني في زيارة القبور، قال: قولي السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين، ويرحم الله المستقدمين منّا والمستأخرين، وإنا إن شاء الله بكم للاحقون"، دليل على أن النساء أذن لهن في زيارة القبور.وكذلك ما أخرجه البخاري: "أن النبي - صلى الله عليه وسلم - مر بامرأة تبكي عند قبر فقال: اتقي الله واصبري، الحديث". ولم ينكر عليها الزيارة. وكذلك ما رواه الحاكم: "أن فاطمة بنت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كانت تزور قبر عمها حمزة كل جمعة فتصلي وتبكي عنده".

فالصواب الذي ينبغي الاعتماد عليه هو جواز الزيارة للنساء إذا كان الأمن من تضييع حق الزوجة والتبرج والجزع والفزع ونحو ذلك من الفتن؛ لأن الزيارة عُلِّلَ بتذكر الموت، ويحتاج إليه الرجال والنساء، فلا مانع من الإذن لهن."

 (بذل المجهود شرح سنن أبي داود: باب في زيارة النساء للقبور (10/ 527، 528)،ط. مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند، الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 2006 م)

فتاوی شامی میں ہے:

" قوله: ( ولو للنساء)، وقيل: تحرم عليهن،  والأصح: أن الرخصة ثابتة لهن بحر. وجزم في شرح المنية بالكراهة ؛ لما مر في اتباعهن الجنازة. وقال الخير الرملي: إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب على ما جرت به عادتهن فلا تجوز، وعليه حمل حديث "لعن الله زائرات القبور". وإن كان للاعتبار والترحم من غير بكاء والتبرك بزيارة قبور الصالحين فلا بأس إذا كن عجائز، ويكره إذا كن شوابّ كحضور الجماعة في المساجد آه.وهو توفيق حسن."

(حاشية ابن عابدين على الدر المختار: كتاب الصلاة، باب  صلاة الجنائز، مطلب في  زيارة القبور (2/ 242)،ط. سعيد، كراتشي)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح "میں ہے:

قوله: "وقيل تحرم على النساء" وسئل القاضي عن جواز خروج النساء إلى المقابر فقال لا تسأل عن الجواز والفساد في مثل هذا وإنما تسأل عن مقدار ما يلحقها من اللعن فيه واعلم بأنها كلما قصدت الخروج كانت في لعنة الله وملائكته وإذا خرجت تحفها الشياطين من كل جانب وإذا أتت القبور تلعنها روح الميت وإذا رجعت كانت في لعنة الله كذا في الشرح عن التتارخانية قال البدر العيني في شرح البخاري وحاصل الكلام أنها تكره للنساء بل تحرم في هذا الزمان لا سيما نساء مصر لأن خروجهن على وجه فيه فساد وفتنة اهـ وفي السراج وأما النساء إذا أردن زيارة القبور إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب كما جرت به عادتهن فلا تجوز لهن الزيارة وعليه يحمل الحديث الصحيح لعن الله زائرات القبور وإن كان للاعتبار والترحم والتبرك بزيارة قبور الصالحين من غير ما يخالف الشرع فلا بأس به إذا كن عجائز وكره ذلك للشابات كحضورهن في المساجد للجماعات اهـ وحاصله أن محل الرخص لهن إذا كانت الزيارة على وجه ليس فيه فتنة."

(کتاب الصلوۃ، باب احکام الجنائز، فصل في زيارة القبور، ص:620، ط:دارالکتب العلمیّة)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(وعن ابن مسعود رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" كنت ‌نهيتكم عن زيارة القبور" أي مطلقا (فزوروا) وفي نسخة: فزوروها (فإنها) أي زيارة القبور أو القبور أي رؤيتها (تزهد الدنيا) فإن ذكر الموت هادم اللذات، ومهون الكدورات، ولذا قيل: إذا تحيرتم في الأمور فاستعينوا بأهل القبور، هذا أحد معنييه (وتذكر الآخرة) وتعين على الاستعداد لها (رواه ابن ماجه)."

(کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور،ج:4،ص:1259،رقم الحدیث:1769،دار الفكر، بيروت - لبنان)

وفیه أیضًا:

"وعن جابر - رضي الله عنه - قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا كان يوم عيد خالف الطريق» . رواه البخاري.
 أي: رجع في غير طريق الخروج، قيل: والسبب فيه وجوه منها: أن يشمل أهل الطريقين بركته وبركة من معه من المؤمنين. ومنها: أن يستفتي منه أهل الطريقين ... ومنها: أن يزور قبور أقاربه".(3/ 1066)

وفیه أیضًا:

"قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال ، فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟"

(3/31،  کتاب الصلاۃ،  الفصل الأول، ط: رشیدیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأفضل أيام الزيارة أربعة يوم الاثنين والخميس والجمعة والسبت والزيارة يوم الجمعة بعد الصلاة حسن ويوم السبت إلى طلوع الشمس ويوم الخميس في أول النهار وقيل في آخر النهار وكذا في الليالي ‌المتبركة لا سيما ليلة براءة وكذلك في الأزمنة ‌المتبركة كعشر ذي الحجة والعيدين وعاشوراء وسائر المواسم كذا في الغرائب."

(کتاب الکراھیة،الباب السادس عشر في زيارة القبور وقراءة القرآن في المقابر،ج:5،ص،305،ط:دارالفكر بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي شرح اللباب ويقرأ من القرآن ما تيسر له من الفاتحة وأول البقرة إلى المفلحون وآية الكرسي - وآمن الرسول - وسورة يس وتبارك الملك وسورة التكاثر والإخلاص اثني عشر مرة أو إحدى عشر أو سبعا أو ثلاثا، ثم يقول: اللهم أوصل ثواب ما قرأناه إلى فلان أو إليهم. اهـ. ... وفي البحر: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع."

(کتاب الصلاۃ، بات صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی القراءۃ  للمیت واهداء ثوابها له، ج: 2، صفحه: 243، ط: سعید)

حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح" میں ہے:

"وقال ابن القيم: الأحاديث والآثار تدل على أن الزائر متى جاء علم به المزور وسمع سلامه وأنس به ورد عليه وهذ عام في حق الشهداء وغيرهم وأنه لا توقيت في ذلك."

(کتاب الصلاۃ، باب أحكام الجنائز، فصل في زيارة القبور، ص: 620، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100920

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں