
قبر پر پھول دین سمجھ کر نہیں بلکہ اس نیت سےڈالنا کہ گورکن وغیرہ کو معلوم رہے کہ اس قبر کے وارث آتے ہیں، اور اس قبر کو توڑ کر دوسری قبر نہ بنا دی جائے۔
قبر وں پر پھول ڈالنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین سے ثابت نہیں ہے، اس لیے قبر پر پھول ڈالنا درست نہیں ہے،نیز یہ محض ایک رسم ہے، باقی قبروں کو باقی اور محفوظ رکھنے کے لیے اورمنہدم ہونے مسمار ہونے سے بچانے کے لیے قبر کی دیکھ بھال رکھی جائے، قبرستان آنا جانا رکھا جائے۔
عمدہ القاری میں ہے:
" أنكر الخطابي ومن تبعه وضع الجريد اليابس، وكذلك ما يفعله أكثر الناس من وضع ما فيه رطوبة من الرياحين والبقول ونحوهما على القبور ليس بشيء."
(كتاب الوضوء ، باب ما جاء في غسل البول ج: 3 ص: 121 ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100656
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن