
میں اپنے ماموں کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ نکاح کا ارادہ رکھتے ہوئے کیا نکاح سے پہلے اس سے بات کر سکتا ہوں یا نہیں؟
واضح رہے کہ کزن (مثلاً ماموں کی بیٹی) شرعاً نامحرم ہے، اور نامحرم عورت سے بلا ضرورت گفتگو کرنا ناجائز ہے۔ محض منگنی یا ارادۂ نکاح سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، اس لیے صورتِ مسئولہ میں نکاح سے پہلے آپس میں بات چیت کرنا شرعاً جائز نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ولايكلم الأجنبية إلا عجوزاً عطست أو سلّمت فيشمتها و يرد السلام عليها، وإلا لا. انتهى.(قوله: وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزاً بل شابةً لايشمّتها، ولايرد السلام بلسانه. قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلّم الرجل أولاً، وإذا سلّمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزاً ردّ الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابةً ردّ عليها في نفسه، وكذا الرجل إذا سلّم على امرأة أجنبية، فالجواب فيه على العكس. اه ".
(كتاب الحظر والاباحة، فصل في النظر والمس، ج:6، ص:369، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100087
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن