بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر کو سریہ اور ماربل سے مضبوط کرنے اورقبر کے اوپر دوسری قبر بنانے کا حکم


سوال

قبر پکی کرنے سے متعلق سوال ہے، حدیث کے مطابق تو قبر کو پکا کرنے سے منع فرمایا ہے، مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ میری والدہ کا کراچی میں انتقال ہوا، وہاں قبر کا ملنا بہت بڑا مسئلہ ہے، وہاں اب قبر کے اوپر قبر ملتی ہے، پرانی کسی قبر کے اوپر بلاک سے چار دیواری لگا کر اس میں تدفین کی جاتی ہے، اب مجبوری یہ ہے کہ اگر اسے مضبوط نہ کیا جائے تو راستہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگ قبر کے اوپر ہی چلتے ہیں، سریا اور ماربل سے مضبوطی نہ کریں تو قبر ٹوٹ جائے گی۔ اب مجبوراً قبر کو ماربل اور سریے سے بنانا ہے تو کیا اس صورت میں قبر پکی کر سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے میت کو غسل ،کفن اور اس پر نمازِجنازہ پڑھانے کے بعد دفن کرنا اس کے حقوق میں سے ہے، اور دفن  دو طرح کیا جاتاہے:ایک یہ کہ زمین میں قد کے برابر گڑھا کھودا جائے جس میں میت سما سکے اس کو "شق "کہتے ہیں ، دوسرا یہ کہ پہلے قبر کھودی جائے، پھر اس کے قبلہ کی جانب ایک گڑھا بنایا جائے، اس میں میّت کو رکھا جائے، اور اسے چھت والے گھر کی طرح بند کر دیا جائے اس کو" لحد "کہتے ہیں۔

قبر میں رکھنے کے بعد اس پر تختوں کو رکھ کر مٹی ڈالی جائےاور قبر کوہان نما بنائی جائے،اوراصل قبر  (یعنی جتنے حصے میں میت دفن ہے) کچی  ہو، اور اردگرد پتھر، یا بلاک وغیرہ سے منڈیر نما بنا دی  جائے یا معمولی سا احاطہ بنا دیا جائے کہ قبر کا نشان نہ مٹ جائے اس کی اجازت ہے، چنانچہ زمین پریا کسی قبر پر اینٹوں کے ذریعہ چاردیواری بناکر اس میں میت کو دفن کرناجائز نہیں، اسی طرح  قبر کو اینٹوں کے ذریعہ مکمل پختہ کرنا ممنوع ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ ترتیب کے مطابق پرانی قبر کے اوپر بلاک سے چار دیواری لگا کر تدفین کرنا ہی شرعاً جائز نہیں ،نیز اس کے اوپر قبر کو سریا اور ماربل سے مضبوط کرنا بھی ناجائز رہے گا۔ 

مغنی المحتاج میں ہے:

" أقل القبر حفرة تمنع الرائحة والسبع ويندب أن يوسع ويعمق، قدر قامة وبسطة، واللحد أفضل من الشق إن صلبت الأرض.

(أقل القبر حفرة تمنع) بعد ردمها (الرائحة) أن تظهر منه فتؤذي الحي (و) تمنع (السبع) عن نبش تلك الحفرة لأكل الميت؛ لأن الحكمة في وجوب الدفن عدم انتهاك حرمته بانتشار رائحته واستقذار جيفته، وأكل السباع له۔۔۔۔۔وقال بعض شراح هذا الكتاب: إنه لا يكفي الدفن فيما يصنع الآن ببلاد مصر والشام وغيرهما من عقد أزج واسع أو مقتصد شبه بيت لمخالفته الخبر وإجماع السلف، وحقيقته بيت تحت الأرض فهو كوضعه في غار ونحوه ويسد بابه اهـ.

وهذا ظاهر؛ لأنه ليس بدفن كما أشار إلى ذلك ابن الصلاح والأذرعي وغيرهما، واحترز بالحفر عما إذا وضع الميت على وجه الأرض ووضع عليه أحجار كثيرة أو تراب أو نحو ذلك مما يكتم رائحته ويحرسه عن أكل السباع، فلا يكفي ذلك إلا إن تعذر الحفر؛ لأنه ليس بدفن."

(كتاب الجنائز، فصل في دفن الميت وما يتعلق به، ج:2، ص:36،37، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويسنم القبر قدر الشبر ولا يربع ولا يجصص ولا بأس برش الماء عليه ويكره أن يبنى على القبر أو يقعد أو ينام عليه أو يوطأ عليه أو تقضى حاجة الإنسان من بول أو غائط أو يعلم بعلامة من كتابة ونحوه، كذا في التبيين.

وإذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها، كذا في التتارخانية، وهو الأصح وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي."

(کتاب الجنائز، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل السادس في القبر والدفن، ج: 1، ص: 166، ط: دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويلحد ولا يشق) إلا في أرض رخوة۔۔۔۔۔(ولا يجصص) للنهي عنه (ولا يطين، ولا يرفع عليه بناء. وقيل: لا بأس به، وهو المختار) كما في كراهة السراجية.

(قوله: ويلحد) لأنه السنة وصفته أن يحفر القبر ثم يحفر في جانب القبلة منه حفيرة فيوضع فيها الميت ويجعل ذلك كالبيت المسقف حلية (قوله ولا يشق) وصفته أن يحفر في وسط القبر حفيرة فيوضع فيها الميت حلية(قوله إلا في أرض رخوة) فيخير بين الشق واتخاذ تابوت ط عن الدر المنتقى، ومثله في النهر۔۔۔۔۔(قوله: ولا يجصص) أي لا يطلى بالجص بالفتح ويكسر قاموس (قوله ولا يرفع عليه بناء) أي يحرم لو للزينة، ويكره لو للإحكام بعد الدفن، وأما قبله فليس بقبر إمداد. وفي الأحكام عن جامع الفتاوى: وقيل لا يكره البناء إذا كان الميت من المشايخ والعلماء والسادات اهـ

قلت: لكن هذا في غير المقابر المسبلة كما لا يخفى (قوله: وقيل: لا بأس به إلخ) المناسب ذكره عقب قوله: ولا يطين لأن عبارة السراجية كما نقله الرحمتي ذكر في تجريد أبي الفضل أن تطيين القبور مكروه والمختار أنه لا يكره اهـ وعزاه إليها المصنف في المنح أيضا. وأما البناء عليه فلم أر من اختار جوازه. وفي شرح المنية عن منية المفتي: المختار أنه لا يكره التطيين. وعن أبي حنيفة: يكره أن يبني عليه بناء من بيت أو قبة أو نحو ذلك، لما روى جابر «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تجصيص القبور، وأن يكتب عليها، وأن يبنى عليها» رواه مسلم وغيره اهـ نعم في الإمداد عن الكبرى: واليوم اعتادوا التسنيم باللبن صيانة للقبر عن النبش، ورأوا ذلك حسنا. وقال صلى الله عليه وسلم «ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن."

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:234،237، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144707102427

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں