
1. میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے، اس کےورثاء میں شوہر، دو بیٹیاں، دو بھائی اور تین بہنیں ہیں، اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں ہے،چونکہ ہم دو بھائی اور تین بہنیں مرحومہ کے شرعی ورثاء ہیں، اس لیے ترکے میں ہمارا حصہ بنتا ہے، لیکن ہم تینوں بہنیں اپنے حصے سےدستبردار ہونا چاہتی ہیں۔اس کاشرعی طریقہ کیا ہوگا؟ نیز ہمیں اپنی بہن کی ساری جائیداد کا بھی نہیں پتہ، بعض چیزوں کا تو علم ہے، باقی معلوم نہیں ہیں کہ ان کی کیا کیا چیزیں تھیں؟ تو بعض اموال کا علم ہونے اور بعض کا نہ ہونے کے باوجوددستبرداری درست ہوگی یا نہیں؟اسی طرح مرحومہ کے ذاتی استعمال کی اشیاء اور وہ نئی چیزیں جو اس کے پاس موجود تھیں ، کیا ان سب سے صرف زبانی دستبرداری کافی ہے؟یا پہلے کسی چیز کا ہمارے قبضے میں آنا اور پھر اس سے دستبرداری ضروری ہے؟
2.دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی کا انتقال ہوجائے اور اس کے ذمہ زکات ادا کرنا باقی ہو یا اس نے زکات ادا کرنے کی نیت کی ہوتو اس کا کیا حکم ہوگا؟
3.تیسرا سوال یہ ہے کہ ہمارے والد کا انتقال ہواتو ان کی وراثت میں ہم سب بہن بھائیوں کو ایک مکان ملا، اس کا کرایہ پہلے پابندی سے ہمیں ملتا تھا، لیکن اب نہیں مل رہا ہے، پچھلے آٹھ دس سالوں سے یہی چل رہا ہے، کبھی ہمیں کرایہ ملتا ہے اور کبھی نہیں ملتا،نیز ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ درمیان میں کرایہ کتنا بڑھا ہے؟اور نہ ہی صحیح سے کرایہ ہمیں ملتا رہا ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ ہمیں کرایہ کی پچھلی وہ ساری رقم جو مل چکی ہو اور جواب تک نہ ملی ہو ان سب کی زکات دینا ہوگی؟
1۔واضح رہے کہ وراثت کی تقسیم سے پہلے ہی کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ سے بلا عوض دست بردار ہوجانا ، معاف کردینا شرعاً معتبر نہیں ہے، لہذاصورتِ مسئولہ میں سائلہ اور اس کی بہنوں کا قبل ازتقسیم اپنے حصوں کو معاف کرنا شرعاً معتبر نہیں ہوگا۔اسی طرح اگر ورثاء کو مرحومہ کے بعض اموال کا علم ہو اور بعض کا نہ ہو، تو قبل از تقسیم لاعلمی یا علم کے باوجود دستبرداری معتبر نہیں ہوگی۔
دستبرداری کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جب ترکہ کی تقسیم ہو جائے، اور ہر وارث اپنے اپنے شرعی حصے پر قبضہ کر لے، اس کے بعد اگر سائلہ اور اس کی بہنیں اپنے اپنے حصوں کو بلاعوض دیگر ورثاء کے حق میں معاف کرنا چاہے یا کسی مخصوص وارث کو دینا چاہے، توایسی دستبرداری شرعاً جائز اور معتبر ہوگی۔نیز مرحومہ کے ذاتی استعمال کی اشیاء، کپڑے، زیورات، اور دیگر نئی یا پرانی چیزیں سب ترکہ میں شامل ہیں، ان کا بھی یہی حکم ہے۔
2۔ اگر کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور اس کے ذمہ گزشتہ سالوں کی زکات واجب الادا ہو جو اس نے ادا نہ کی ہو، تو اس کی طرف سے زکات ادا کرنے کا حکم یہ ہے کہ اگر اس نے اپنے مال سے زکات ادا کرنے کی وصیت کی ہو تو اس کے ترکے سے قرضوں کی ادائیگی کے بعد باقی ماندہ مال کے ایک تہائی حصے سے زکات ادا کی جائے گی، اور اگر تمام ورثاء بالغ ہوں تو وہ اپنی خوش دلی سے ایک تہائی سے زیادہ بھی بطورِ تبرع ادا کر سکتے ہیں۔
اور اگر مرحوم نے زکات کی ادائیگی کی وصیت نہ کی ہو تو شرعاً ورثاء پر اس کی زکات ادا کرنا لازم نہیں ہے، تاہم اگر ورثاء بالغ ہوں اور اپنی رضامندی سے بطورِ تبرع مرحوم کی طرف سے زکات ادا کر دیں تو یہ ان کی طرف سے احسان اور باعثِ اجر ہوگا۔
3. جو کرایہ آپ حضرات کو ماضی میں مل چکا ہے، اگر وہ رقم وصول ہونے کے بعد استعمال میں آ گئی اور محفوظ نہ رہی تو اس پر زکات لازم نہیں ہوگی۔ البتہ اگر کوئی وارث پہلے ہی صاحبِ نصاب ہو اور ہر سال زکات ادا کرتا ہو، اور اس گھر سے حاصل ہونے والی اس کے حصےکی کرایہ کی رقم تنہا یادیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ جائے تو زکات کا سال مکمل ہونے پر جتنا کرایہ اس کے پاس موجود ہو اسے اپنے دوسرے اموال کے ساتھ ملا کر زکات ادا کرنااس پر لازم ہوگی۔
تاہم جو کرایہ گزشتہ آٹھ دس سال کے دوران آپ حضرات کو ملا ہی نہیں ہے اور اس کی مقدار بھی متعین نہیں ہے، تو ایسی غیر موصولہ رقم پر فی الحال زکات واجب نہیں ہے، بلکہ جو وارث کرایہ وصول کرکے آپ حضرات کو نہیں دے رہا، اس کے ذمہ قرض ہے، جسے فقہی اصطلاح میں دَینِ قوی کہا جاتا ہے۔ دَینِ قوی کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کی مالیت نصابِ زکات یعنی ساڑھے سات تولہ سونے یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر ہو، اور اس کے وصول ہونے کی امید بھی موجود ہو، تو اس پر سال گزرنے کے بعد دائن یعنی صاحبِ قرض پر زکات واجب ہو جاتی ہے، تاہم زکات کی ادائیگی شرعاً وصولی کے بعد لازم ہوتی ہے۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں جب پچھلے سالوں کا بقایا کرایہ ہر ایک وارث کو یکمشت وصول ہو جائے، تو وصولی کے بعد گزشتہ سالوں کی زکات بھی حساب کرکے ادا کرنا لازم ہوگا، بشرطیکہ کرایہ کی یہ رقم تنہا یا اس دوسرے مال کے ساتھ جو پہلے سے کسی وارث کے پاس موجود ہو مل کر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے۔ اور اگر یہ رقم یکمشت وصول نہ ہو بلکہ قسطوں میں ملتی رہے، تو جتنی رقم وصول ہوتی جائے اسی کے اعتبار سے زکات ادا کی جائے گی، نیز اگر کوئی پوری متوقع رقم کی زکات حساب کرکے وصولی سے پہلے ادا کرنا چاہے تویہ بھی جائز ہے۔
1۔ تكملۃ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:
"الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط."
(کتاب الدعوی، باب التحالف، ج:8، ص:116، ط:سعید)
الاشباه والنظائر لابن نجيم ميں ہے:
"لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك."
(الفن الثالث، ما یقبل الاسقاط من الحقوق وما لا یقبله، ص:272، ط:دار الكتب العلمية)
العقود الدرية في تنقیح الفتاوی الحامدیة میں ہے:
"(سئل) في أحد الورثة إذا أشهد عليه قبل قسمة التركة المشتملة على أعيان معلومة أنه ترك حقه من الإرث وأسقطه وأبرأ ذمة بقية الورثة منها ويريد الآن مطالبة حقه من الإرث فهل له ذلك؟
(الجواب) : الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط وقد أفتى به العلامة الرملي كما هو محرر في فتاواه من الإقرار نقلا عن الفصولين وغيره فراجعه إن شئت."
(کتاب الدعوی، ج:2، ص:26، ط:دار المعرفة)
2۔فتاوی شامی میں ہے :
"وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا.
وفی الرد: (قوله وأما دين الله تعالى إلخ) محترز قوله من جهة العباد وذلك كالزكاة والكفارات ونحوها قال الزيلعي فإنها تسقط بالموت فلا يلزم الورثة أداؤها إلا إذا أوصى بها؛ أو تبرعوا بها هم من عندهم، لأن الركن في العبادات نية المكلف وفعله، وقد فات بموته فلا يتصور بقاء الواجب اهـ ."
(کتاب الفرائض، ج:6، ص:770، ط:سعید)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"أنه لو مات من عليه الزكاة لاتؤخذ من تركته لفقد شرط صحتها، وهو النية إلا إذا أوصى بها فتعتبر من الثلث كسائر التبرعات."
(كتاب الزكوة، شروط اداء الزكوة، ج:2، ص:227، ط:دار الكتاب الاسلامى)
3۔فتاوی شامی میں ہے:
"(ولو كان الدين على مقر مليء أو) على (معسر أو مفلس) أي محكوم بإفلاسه (أو) على (جاحد عليه بينة) وعن محمد لا زكاة، وهو الصحيح، ذكره ابن ملك وغيره لأن البينة قد لا تقبل (أو علم به قاض) سيجيء أن المفتى به عدم القضاء بعلم القاضي (فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى) وسنفصل الدين في زكاة المال."
(كتاب الزكاة ،ج:2، ص:266، ط:سعيد)
وفیه أیضا:
"واعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم.
(قوله: عند الإمام) وعندهما الديون كلها سواء تجب زكاتها، ويؤدي متى قبض شيئا قليلا أو كثيرا إلا دين الكتابة والسعاية والدية في رواية بحر (قوله: إذا تم نصابا) الضمير في تم يعود للدين المفهوم من الديون، والمراد إذا بلغ نصابا بنفسه أو بما عنده مما يتم به النصاب ۔۔۔۔ مطلب في وجوب الزكاة في دين المرصد (قوله: كقرض) قلت: الظاهر أن منه مال المرصد المشهور في ديارنا؛ لأنه إذا أنفق المستأجر لدار الوقف على عمارتها الضرورية بأمر القاضي للضرورة الداعية إليه يكون بمنزلة استقراض المتولي من المستأجر، فإذا قبض ذلك كله أو أربعين درهما منه ولو باقتطاع ذلك من أجرة الدار تجب زكاته لما مضى من السنين والناس عنه غافلون."
(كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج:2، ص:305، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101921
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن