
میرے بھائی کا نام والدین نے (Qaan Ul Islam قان الاسلام) رکھا تھا، ہم سب اسے ”قانی“ کہتے ہیں، ابھی اس کی عمر 17 سال ہے، میٹرک کر چکا ہے اور اب وہ حفظ کر رہا ہے، مدرسہ کے اساتذہ نے اسے بولا کہ” آپ کا نام صحیح نہیں ہے“، اور انہوں نے اس کا نام تبدیل کر کے”بدرالاسلام“ رکھ دیا، مدرسہ میں اب اسے ”بدر“ ہی کہتے ہیں، میرا بھائی اب گھر والوں کو کہتا ہے کہ میرا نام بدل دیں ! میں اپنا نام بدلنا چاہتا ہوں، لیکن والدین کہتے ہیں کہ تمہارا نام صحیح ہے، نام نہیں بدلا جائے گا ، و ہی نام رہے گا ، اگر بدلا بھی جائے تو ہم اپنی مرضی سے بدلیں گے۔
والدین ”قان“ کا مطلب پہاڑ بتاتے رہے ہیں، لیکن وہ کتاب ڈھونڈنے کے بعد جس سے دیکھ کر انہوں نے نام رکھا اس میں ”قان “کا مطلب (عادل، دانا، شاہ چین اور شاہ ترکستان کا لقب )لکھا ہوا ہے، جب کہ مدرسے کے اساتذہ کہتے ہیں کہ نام اسلامی نہیں ہے اس لیے بدل دیا ہے، بھائی یہ کہتا ہے کہ مجھے لوگوں کو ”قان الاسلام“ نام بتانے میں مشکل ہوتی ہے، کسی کو سمجھ نہیں آتا اور باقی سب بھی نام بدلنے کے حق میں ہیں ، جب کہ والدین یہ کہتے ہیں کہ نہیں بدلیں گے۔
براہِ کرم ہماری راہ نمائی فرمائیں کیا کرنا چاہیے :نام بدل دینا چاہیے یا یہی نام رہنے دینا چاہیے یا والدین اپنی مرضی سے کوئی اور نام رکھیں تو وہ رکھ دینا چاہیے؟
”قاآن“: در اصل مغولی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ایک عظمت والا، عادل اور سخی بادشاہ کے آتے ہیں، یہ لقب ترکستان اور چین کے بادشاہوں کے لیے استعمال ہوتا تھا، جو بھی وقت کا بادشاہ ہوتا تھا اسے خاقانِ چین یعنی چین کا بادشاہ کہا جاتا تھا، اسی طرح یہ لقب ”مغولستان“ کے بادشاہوں کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا،جیسے منگو قاآن، اوکتائی قاآن وغیرہ، لیکن بعد میں یہ لقب خصوصی طور پر ”اوکتائی قاآن“ کے لیے خاص ہوگیا تھا، یعنی چنگیز خان کے بیٹے کے لیے خاص ہوگیا تھا۔
بہر حال مذکورہ معنی کے مطابق ”قاآن الاسلام“ (یعنی لفظِ قا کے بعد الف مدودہ (آ)، پھر نون) نام کا معنی ”اسلام کاعادل، سخی بادشاہ“ بنتا ہے، اس لحاظ سے مذکورہ نام رکھنا درست ہے، لیکن سائل نے جو قان الاسلام لکھا ہے یہ تلفظ درست نہیں، لہذا صحیح تلفظ کے ساتھ پکارا جائے یا نام تبدیل کردیا جائے۔
دھخدا لغت میں ہے:
”قاآن (مغولی ) پادشاه ذي شأن عظيم عادل و سخی (رشیدی) (غیاث اللغة) (آنندراج). لقب پادشاهان ترکستان و چین باشد. نفایس الفنون) (رشیدی) (غیاث اللغه). خاقان چین پادشاه چین هر که باشد. برهان) کلمه مغولی است به معنی شاهنشاه (جغتائی ص ۳۸۹) لقب پادشاهان مغولستان مانند منگوقا آن و اوکتای قاآن و اختصاصاً به پادشاه اخیر اوکتای قاآن اطلاق میشود.(حاشیه برهان چ معین):خراج کشور قاآن بهایش۔“
(ق، ج:11، ص:17277، ط: مؤسسۃ انتثارات)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611102600
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن