
ایک قبرستان ہے جس میں مزید قبریں بنانے کی گنجائش نہیں ہے، یعنی جگہ کی تنگی کی وجہ سے مزید کوئی قبر نہیں بن سکتی، اب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو کیا کسی ایسی قبر کو جو پانچ دس سال پرانی ہے اس کو کھود کر اس میت کو اس میں دفنایا جاسکتا ہے یا نہیں؟
اگر پرانی قبر کھود کر نئی میت اس قبر میں دفنائی جاسکتی ہے تو اس کے لیے ایک قبر پر کتنا عرصہ گزرنا ضروری ہے ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
مذکورہ قبرستان میں جگہ کی تنگی کے باعث ان پرانی قبروں میں نئی میت کو دفن کرنا جائز ہوگا جن میں پرانی میت گل سر کے مٹی ہوگئی ہو ۔
کتنے عرصہ میں میت مٹی بن جاتی ہے اس کے لیے کوئی حد بندی نہیں کی جاسکتی، کیونکہ اس کا مدار مٹی کی کیفیت، موسم ، میت کے جسم کی کیفیت وغیرہ پر ہے۔اس معاملہ میں مذکورہ علاقہ اور قبرستان کے احوال سے جو شخص واقف ہو اس کی رائے معتبر ہوگی اور غالب گمان پر فیصلہ کیا جائے گا۔
نیز اگر غالب گمان کا اعتبار کرتے ہوئے پرانی قبر کھولی اور اس میں پچھلی میت کی ہڈیاں وغیرہ نکل آئیں تو پھر اس کو ایک کنارہ میں کردیا جائے اور ان ہڈیوں اور نئی میت کے درمیان مٹی کا حائل بنا دیا جائے۔اور اگر پچھلی میت کا جسم محفوظ ہو تو پھر اس میں نئی تدفین نہ کی جائے ۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولو بلى الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه، كذا في التبيين."
(کتاب الصلاۃ، باب الجنائز،ج: 1،،ص 167، دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وإن دفن) وأهيل عليه التراب (بغير صلاة) أو بها بلا غسل أو ممن لا ولاية له (صلي على قبره) استحسانا (ما لم يغلب على الظن تفسخه) من غير تقدير هو الأصح. وظاهره أنه لو شك في تفسخه صلي عليه، لكن في النهر عن محمد لا كأنه تقديما للمانع
قوله هو الأصح) لأنه يختلف باختلاف الأوقات حرا وبردا والميت سمنا وهزالا والأمكنة بحر، وقيل يقدر بثلاثة أيام، وقيل عشرة، وقيل شهر ط عن الحموي ."
(کتاب الصلاۃ،ج: 2،ص:224، ایچ ایم سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"وكذا بعده. قال في الفتح، ولا يحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلي الأول فلم يبق له عظم إلا أن لا يوجد فتضم عظام الأول ويجعل بينهما حاجز من تراب. ويكره الدفن في الفساقي اهـ وهي كبيت معقود بالبناء يسع جماعة قياما لمخالفتها السنة إمداد. والكراهة فيها من وجوه: عدم اللحد، ودفن الجماعة في قبر واحد بلا ضرورة، واختلاط الرجال بالنساء بلا حاجز، وتجصيصها، والبناء عليها بحر. قال في الحلية: وخصوصا إن كان فيها ميت لم يبل؛ وما يفعله جهلة الحفارين من نبش القبور التي لم تبل أربابها، وإدخال أجانب عليهم فهو من المنكر الظاهر، وليس من الضرورة المبيحة لجمع ميتين فأكثر ابتداء في قبر واحد قصد دفن الرجل مع قريبه أو ضيق المحل في تلك المقبرة مع وجود غيرها، وإن كانت مما يتبرك بالدفن فيها فضلا عن كون ذلك ونحوه مبيحا للنبش، وإدخال البعض على البعض قبل البلى مع ما فيه من هتك حرمة الميت الأول، وتفريق أجزائه، فالحذر من ذلك اهـ: وقال الزيلعي: ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ. قال في الإمداد: ويخالفه ما في التتارخانية إذا صار الميت ترابا في القبر يكره دفن غيره في قبره لأن الحرمة باقية، وإن جمعوا عظامه في ناحية ثم دفن غيره فيه تبركا بالجيران الصالحين، ويوجد موضع فارغ يكره ذلك. اهـ"
(کتاب الصلاۃ،ج: 2،ص:233، ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101282
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن