
میں قطر میں رہتا ہوں۔ میں جہاں کام کرتا ہوں، وہاں پبلک ٹوائلٹ ہیں، مطلب ہر کوئی استعمال کرتا ہے، تو کیا میں اپنی صفائی کے لیے پیشاب کھڑے ہو کر کرسکتا ہوں؟ کیونکہ ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں، اور ٹوائلٹ کموڈ والا ہے، اور ہر کوئی اسے استعمال کرتا ہے۔
بلا عذر کھڑے ہوکر پیشاب کرنا مکروہ ہے، نیز کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی صورت میں پیشاب کی چھینٹیں جسم یا کپڑے پر لگنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، لہٰذاصورت مسئولہ میں سائل کو چاہیے کہ واش روم استعمال کرنے سے پہلے کموڈ پر پانی بہا کر یا اچھی طرح پوچھ کر اسے پاک کر لے، اس کے بعد استعمال کرے، تاکہ پہلے سے موجود کوئی نجاست جسم کو نہ لگے۔
سنن الترمذي میں ہے:
١٢۔" عن عائشة رضي الله عنها قالت: «من حدثكم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يبول قائما فلا تصدقوه»، ما كان يبول إلا قاعدا."
ترجمہ:" ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ: " جو تم سے یہ کہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تو تم اس کی تصدیق نہ کرنا، آپ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے۔"
"عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر قال: رآني النبي صلى الله عليه وسلم أبول قائما، فقال: يا عمر، لا تبل قائما، فما بلت قائما بعد."
ترجمہ:" حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: "عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو"، چنانچہ اس کے بعد سے میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔"
"عن عبد الله بن مسعود قال: إن من الجفاء أن تبول وأنت قائم."
ترجمہ: "حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ: پھوہڑ پن، اور کم عقلی کے کاموں میں سے یہ ہے کہ: تم کھڑے ہو کر پیشاب کرو۔"
( أبواب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب النهي عن البول قائما، ١ / ٦٠، ط: دار الغرب الإسلامي - بيروت)
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:
"البول قائما" لتنجسه غالبا "إلا من عذر" كوجع بصلبه
قوله: "ويكره البول قائما" قال في شرح المشكاة قيل النهي للتنزيه وقيل للتحريم وفي البناية قال الطحاوي لا بأس بالبول قائما اهـ قوله: "لتنجسه غالبا" أي لتنجس الشخص به ولأنه من الجفاء كما ورد قوله: "إلا من عذر" روي أنه عليه الصلاة والسلام بال قائما لجرح في باطن ركبته لم يتمكن معه من القعود وقيل لأنه لم يجد مكانا طاهرا للعقود لامتلاء الموضع بالنجاسات وقيل لوجع كان بصلبه الشريف فإن العرب تستشفي لوجع الصلب بالبول قائما كما قاله الشافعي وقال الغزالي في الإحياء قال زين العرب أجمع أربعون طبيبا على أن البول في الحمام قائما دواء من سبعين داء."
( كتاب الطهارة، فصل فيما يجوز به الاستنجاء وما يكره به وما يكره فعله ،ص: 54، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)
معارف السنن للبنوری میں ہے:
" إن البول قائماً وإن کانت فیه رخصة، والمنع للتأدیب لا للتحریم، کما قاله الترمذي، ولكن الیوم الفتوی علی تحریمه أولی حیث أصبح شعاراً لغیر المسلمین من الکفار و أهل الأدیان الباطلة."
(باب النهي عن البول قائماً، 106\1، ط: مجلس الدعوة و التحقيق بجامعةالعلوم الإسلامية )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100713
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن