
محترم مفتی صاحب! میں ایک نجی کمپنی میں ملازم رہا ہوں، جہاں میری تنخواہ سے "پراویڈنٹ فنڈ" کے نام پر ماہانہ کٹوتی کی جاتی تھی۔ اس حوالے سے صورتحال درج ذیل ہے:
کٹوتی کی نوعیت: اگرچہ تنخواہ کی رسید (Salary Slip) پر اسے "اختیاری کٹوتی" (Voluntary Deduction) لکھا جاتا تھا، لیکن کمپنی کی پالیسی کے مطابق یہ "غیر اختیاری"(Compulsory) تھی اور اس فنڈ میں شرکت کرنا ہر ملازم کے لیے لازمی تھا۔
انویسٹمنٹ: کمپنی میری تنخواہ سے کٹی ہوئی رقم کے برابر اپنی طرف سے رقم ملاتی تھی اور پھر یہ مجموعی رقم ایک تیسرے ادارے کے ذریعے انویسٹ کی جاتی تھی۔ وہ ادارہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کی انویسٹمنٹ اسلامی اصولوں کے مطابق ہے، لیکن ہمیں اس کی تفصیلات اور شرعی حیثیت کا کوئی علم نہیں ہے۔
وصولی اور زکوٰۃ: ملازمت چھوڑنے پر کمپنی نے میرا اصل حصہ، کمپنی کا ملایا ہوا حصہ اور انویسٹمنٹ سے حاصل شدہ منافع، سب ملا کر مجھے دیا ہے۔ تاہم، ادارہ نے کل رقم ادا کرنے سے قبل اس میں سے خود ہی ڈھائی فیصد (2.5%) زکوٰۃ کی مد میں کاٹ لیا ہے۔ اس صورتحال میں رہنمائی فرمائیں:
سوال نمبر 1: چوں کہ انویسٹمنٹ کے اسلامی ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ہمیں یقین نہیں، تو کیا کمپنی کی طرف سے ملائی گئی اضافی رقم اور اس پر ملنے والا منافع میرے لیے جائز ہے؟
سوال نمبر 2: ادارہ نے جو رقم زکوٰۃ کے نام پر کاٹی ہے، ہمیں علم نہیں کہ وہ شرعی مستحقین کو دی گئی ہے یا نہیں۔ کیا مجھ پر اس ملی ہوئی کل رقم کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی مذکورہ کٹوتی کمپنی کی پالیسی کے مطابق غیر اختیاری اور جبری ہے تو تنخواہ کی رسید پر اختیاری کٹوتی لکھنا خلافِ حقیقت ہے، لہذا پہلے اس بارے میں پورا اطمینان کرلیا جائے کہ یہ فنڈ واقعی جبری ہے، اختیاری نہیں ہے، تاکہ کوئی غلط فہمی نہ رہے، کیوں کہ اس فنڈ کے جائز اور ناجائز ہونے کا مدار یہی ہے۔
اگر اس فنڈ میں شرکت ہر ملازم کے لیے لازمی تھی، اختیاری نہیں تو ایسی صورت میں یہ فنڈ مع اضافی رقم (خواہ اضافی رقم کمپنی کی طرف سے ہو یا سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع کی صورت میں ہو) کمپنی کی جانب سے ملازمین کے لیے تبرع اور انعام شمار ہے اور ملازمین کے لیے اس رقم کا لینا شرعاً جائز ہے۔
نیز چوں کہ یہ کٹوتی غیر اختیاری تھی، اس لیے اس رقم پر سرے سے زکوٰۃ واجب نہیں ، بلکہ جب یہ رقم ملازم کے قبضے میں آئے گی، اسی وقت سے اس کی زکوٰۃ کا حساب شروع ہوگا، گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔
فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:
”(سوال ۱۵۵ ) میں سرکاری ملازم ہوں میری تنخواہ میں سے سرکار پرو ویڈنٹ فنڈ کے طور پر ماہانہ نو ر و پے لاز ما کاٹ لیتی ہے مگر میں مزید اکتالیس روپے جمع کرنے کے لئے اپنی مرضی سے لکھ دیتا ہوں اس طرح اب ہر مہینے لازما پچاس روپے کٹتے ہیں اور اب ان میں کمی بیشی کی بالکل گنجائش نہیں اور اس زائد رقم پر بھی وہی قانون لگتا ہے جو پروویڈنٹ فنڈ پر لگتا ہے کہ ریٹائر ہونے سے پہلے نہیں ملے گی تو میرے ذمہ زائد رقم اکتالیس روپے کی زکوۃ فی الحال ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
(الجواب) جونو ۹ رو پے لازما کٹتے ہیں اور اس پر جو مزید رقم ملے گی یہ سب سرکاری انعام ہے اس پر زکوۃ کا مسئلہ ملنے اور قبضہ میں آنے کے بعد جاری ہوگا ملنے سے پہلے نہیں۔ البتہ جو تم ماہانہ (اکتالیس ۴۱ روپے ) جمع کرنے کی آپ نے اپنی مرضی سے منظوری دی ہے اس میں زکوۃ کا حکم جاری ہو گا اگر چہ وہ آپ کے قبضہ میں نہیں ہے، جس طرح ہم کسی کو اپنے مرضی سے قرض دیتے ہیں اس پر بھی ہمارا قبضہ نہیں ہوتا مگر زکوۃ واجب ہوتی ہے اسی طرح ہم نے جو رقم کسی کے پاس امانت رکھی ہے اس پر بھی ہمارا قبضہ نہیں ہے مگر وہ ہماری ملک ہے اور ہم نے اپنی مرضی سے امانت رکھوائی ہے اس لئے اس پر زکوٰۃ واجب ہے ، اسی طرح صورت مذکورہ میں بھی زکوۃ واجب ہے اور اس رقم پر سود کے نام سے جو رقم ملے گی وہ سود ہوگی کیونکہ وہ آپ کی ذاتی رقم کے حساب میں دی گئی ہے۔ “
(کتاب الزکوٰۃ، ج:7، ص:152، ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101692
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن