بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پراویڈنٹ فنڈ پر اضافی رقم کا حکم


سوال

میں استونیا، یورپ میں مقیم ہوں۔ یہاں تنخواہ سے ٪33 ٹیکس کٹتا ہے، اور مزید٪ 2 پراویڈنٹ فنڈ (provident fund) کے نام سے کٹتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ کٹوتی اختیاری ہے، یعنی میں درخواست دے کر پراویڈنٹ فنڈ بند کروا سکتا ہوں۔

اس٪2 پر حکومت٪4 بطور فنڈ دیتی ہے، جبکہ حکومتی قوانین میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ یہ اضافی ٪ 4 رقم اسی٪ 33 ٹیکس میں سے دی جاتی ہے۔ تو ایسی صورت میں یہ اضافہ لینا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ملازم کو اگر یہ اضافی رقم اسی کٹوتی شدہ ٹیکس میں سے دی جاتی ہے جو خود سائل کی تنخواہ سے کاٹی گئی یہ کسی سودی ادارے سے حاصل شدہ منافع میں سے نہیں ہے،  تو ایسی صورت میں یہ اضافی رقم لینا اور استعمال کرنا جائز ہے۔
مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے:

"(والأجرة) في الإجارة (لا تستحق بالعقد) أي بنفس العقد فلا يجب تسليمها عينا كان أو دينا عندنا؛ لأن حكم العقد يظهر عند وجود المنفعة وهي معدومة عند العقد ولذا يقام العين مقام المنفعة في حق إضافة العقد إلى المنفعة كما يقام السفر مقام المشقة فتجب الأجرة مؤجلا موقتا على تحقق أحد الأمور الآتي ذكرها.وعن هذا وقال (بل) تستحق (بالتعجيل) هو (أو بشرطه) أي بشرط التعجيل؛ لأن امتناع ثبوت الملك بنفس العتق لتحقق المساواة، فإذا عجل أو شرط التعجيل فقد أبطل المساواة التي هي حقه بخلاف الإجارة المضافة بشرط تعجيل الأجرة، فإن الشرط باطل لامتناع ثبوت الملك من التبدل للتصريح بالإضافة إلى وقت في المستقبل، والمضاف إلى وقت لا يكون موجودا قبله ولا يتغير هذا المعنى (أو باستيفاء المعقود عليه) لتحقق المساواة بينهما إذ العقد عقد معاوضة (أو التمكن منه) أي من استيفاء النفع إقامة للتمكن من الشيء مقام ذلك الشيء هذا إذا كانت الإجارة صحيحة فأما إذا كانت فاسدة لا يجب شيء بمجرد التمكن من استيفاء المنفعة إلا بحقيقة الانتفاع."

(کتاب الاجارۃ،ج:2،ص:370،ط:دار إحياء التراث العربي بيروت)

البحر الرائق میں ہے:

"قوله:(بلبالتعجيلأو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها."

(ج:7،ص:300،ط:دار الکتاب الاسلامی)

جواہر الفقہ میں حضر ت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ اس مسئلہ سے متعلق لکھتے ہیں:

"         جبری پراویڈنٹ فنڈ پہ سود کے نام پر جو رقم ملتی ہے  ،وہ شرعا سود نہیں  بلکہ اجرت(تنخواہ)ہی کا ایک حصہ ہے اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے  ، البتہ پراویڈنٹ فنڈ میں رقم اپنے اختیار سے کٹوائی جائے تو اس میں تشبہ بالربوا بھی ہے اور ذریعہ  سود بنا لینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لیے اس سے اجتناب کیا جائے۔"

(ج:3،ص:257،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144710101409

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں