بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الاول 1448ھ 22 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

پراپرٹی ڈیلر کا کمیشن اور ٹاپ مارنے کی رقم لینے کا شرعی حکم


سوال

 میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں پراپرٹی کا کام کرتا ہوں۔ ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا پلاٹ 30 لاکھ روپے میں فروخت کرو۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ ٹھیک ہے، میں یہ پلاٹ آگے کسی خریدار کو فروخت کر دوں گا اور 30 لاکھ روپے آپ کو دے دوں گا، جبکہ اس کے اوپر جو رقم حاصل ہوگی وہ میرا منافع ہوگا۔

مثلامیں اسی پلاٹ کو ایک خریدار کو 32 لاکھ روپے میں فروخت کر دیتا ہوں، سیلر کو اس کے 30 لاکھ روپے دے دیتا ہوں اور 2 لاکھ روپے اپنے منافع کے طور پر رکھ لیتا ہوں۔

سوال یہ ہے کہ  کیا اس طریقے سے پلاٹ فروخت کرکے 2 لاکھ روپے کا منافع رکھنا شرعا جائز اور حلال ہے؟ اگر جائز ہے تو اس معاملے میں کن شرعی شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہے؟

جواب

پراپرٹی ڈیلر کے لیے سودا طے ہونے پر فروخت کنندہ اور خریدار دونوں سے متعین کمیشن (محنتانہ) وصول کرنا شرعا جائز ہے۔ البتہ فروخت کنندہ سے ایک قیمت طے کرنے کے بعد اس کی اجازت کے بغیر اس سے زائد قیمت پر خریدار کو فروخت کرکے درمیان کی رقم، جسے عرف بازار میں ٹاپ مارنا کہا جاتا ہے، وصول کرنا شرعا جائز نہیں؛ کیونکہ اس میں فروخت کنندہ کی اجازت کے بغیر اس کے مال کی زائد قیمت اپنے لیے رکھنا پایا جاتا ہے۔

اس کی جائز صورت یہ ہے کہ پراپرٹی ڈیلر فروخت کنندہ سے پہلے ہی متعین کمیشن طے کرلے، مثلاً یہ کہ: "اگر میں آپ کی پراپرٹی فروخت کردوں تو آپ مجھے اتنا کمیشن دیں گے۔" پھر سودا طے ہونے کے بعد طے شدہ کمیشن وصول کرے۔ یا ڈیلر پہلے وہ پراپرٹی خود خرید لے، پھر اسے اپنی ملکیت میں آنے کے بعد جتنی قیمت پر چاہے آگے فروخت کرے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه ."

( كتاب الإجارة ، مطلب في استئجار الماء مع القناة واستئجار الآجام والحياض للسمك ج: 6 ،ص: 63 ، ط: دارالفکر بیروت)

وفیه أیضا:

"وأما أجرة السمسار والدلال فقال الشارح الزيلعي: إن كانت مشروطة في العقد تضم."

(کتاب البیوع، باب المرابحة والتولية، ج: 5، ص: 136، ط: دارالفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100109

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں