بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پروڈکٹ کا نام


سوال

میں نے ”سلام“ کے نام سے ایک پروڈکٹ تیار کیا ہے، اس میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں چونکہ ”سلام“ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے، اس لیے اس نام کا احترام لازم ہے اور اسے کسی ڈبے یا تھیلی پر لکھنے سے بے ادبی کا اندیشہ ہے۔ لہذا ادب کا تقاضا یہی ہے کہ سائل اپنی پروڈکٹ کے لیے کوئی ایسا نام رکھے جس میں کسی مقدس نام کی بے حرمتی کا خطرہ نہ ہو۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا بأس بكتابة اسم الله تعالى على الدراهم؛ لأن قصد صاحبه العلامة لا التهاون، كذا في جواهر الأخلاطي."

(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيئ من القرآن، ج: 5، ص: 323، ط: دار الفكر - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"ورأى بعض الأئمة شبانا يرمون إلى هدف كتب فيه أبو جهل لعنه الله فنهاهم عنه، ثم مر بهم وقد قطعوا الحروف فنهاهم أيضا وقال: إنما نهيتكم في الابتداء لأجل الحروف فإذا يكره مجرد الحروف، لكن الأول أحسن وأوسع. اهـ. قال سيدي عبد الغني: ولعل وجه ذلك أن حروف الهجاء قرآن نزلت على هود - عليه السلام - كما صرح بذلك الإمام القسطلاني في كتابه [الإشارات في علم القراءات] اهـ."

 (كتاب الطهارة، ج: 1، ص: 179، ط: دار الفكر - بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144611102623

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں