
ہمارا موبل آئل کا کاروبار ہے،کاؤنٹر سیل بھی اور ہول سیل سپلائی بھی ہے، ہم اپنی پرچون سیل کے لیے موٹر مکینک کو گاہک ہمارےپاس بھیجنے پر کمیشن دے سکتے ہیں؟ اُس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہم مکینک کو اپنے مخصوص پروڈکٹ کی کین دکھا بتا کر اسے کہہ دیتے ہیں کہ آپ اپنی ورکشاپ سے گاہک کو ہمارے اس پروڈکٹ پر قائل کر کے ہمارے پاس بھیجیں ہم آپ کو بِکنے والی اس کین پر 200 یا 300 یاجتنے بھی روپے اس مکینک کے ساتھ طے ہوجائیں وہ آپ کو خالی کین واپس کرنے پر یا کین کے اسٹیکر واپس کرنے پر یا کبھی ہم کوئی مخصوص چھوٹا سا اسٹیکر لگا دیتے ہیں اسے واپس کرنے پر دیں گے۔ کیا کمیشن کا یہ طریقہ ہمارے لیے اور مکینک کے لیے جائز ہے؟ اور ایسے ہی ہم ہول سیل پر جو مال دوسرے شہروں میں یا ہوم سٹی کی دوسری دوکانوں پر بکنے کے لیے رکھتے ہیں تو یہ کمیشن اسکیم ہم دکان دار کو دے آتے ہیں کہ اپنے مکینک حضرات سے خالی کین یا اسٹیکر وغیرہ واپس لے کر 200 یا جتنے بھی طے ہوجائیں اسے دے دیں اور اگلے ہفتہ جب ہماری گاڑی آئے گی تو جتنی کین یا اسٹیکر آپ ہمیں دیں گے اسی حساب سے طے کردہ رقم ہم آپ کو نقد یا کھاتہ میں ایڈجسٹ کر دیں گے۔کیا یہ طریقہ ہمارے لیے دکان دار کے لیے اور مکینک کے لیے جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کمیشن دینے کی صورت جائز ہے، بشرط یہ کہ سائل کا مقصد اپنی غیر معیاری پروڈکٹ کو موٹر مکینک/ دکان دار کو اچھے کمیشن دینے کی وجہ سے بیچنا نہ ہو، اور کمیشن دینے کے لیے قیمت میں اضافہ نہ کیا ہو۔
فتاوی شامی میں ہے:
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه."
(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج:6، ص:63، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101762
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن