بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 محرم 1448ھ 26 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ کی شرعی حکم اور متبادل ذریعۂ آمدن


سوال

میرے تین بچے اور ایک بیوی ہے۔ بڑا بیٹا 17 سال کا ہے۔ میں شدید بیماری میں مبتلا ہوں اور روزی کمانے کے قابل نہیں رہا اور کوئی کمانے والا بھی نہیں ہے۔ میری بہن میرے ساتھ مل کر گھر کا خرچ اُٹھا رہی ہیں۔ بیوی بچے سب پریشان رہتے ہیں، اور بیماری کی وجہ سے میرا احترام بھی نہیں کرتے۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں میں کسی سے رقم اُدھار لے کر پرائز بانڈ خرید سکتا ہوں؟اور اگر پرائز بانڈ پر انعام نکل آئے تو کیا میرے لیے اُس رقم کو استعمال کرنا جائز ہوگا؟ تاکہ میرے گھر کا خرچ چل سکے۔

جواب

چونکہ پرائز بانڈز کا معاملہ سود اور جوئے کا مجموعہ ہے؛ اس لیے پرائز بانڈ ز کی خریدوفروخت، اور اس سے ملنے والا انعام شریعت کی رو سے ہر صورت ناجائز اور حرام ہے۔ شریعت میں سود اور جوئے جیسے معاملات سے دور رہنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بہتر یہ ہے کہ جو رقم آپ پرائز بونڈ میں لگانا چاہتے ہیں، اس کے بجائے وہ رقم کسی جائز کاروبار یا حلال ذریعۂ آمدن میں لگائیں، تاکہ آپ رزقِ حلال کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن فضالة بن عبيد صاحب النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال: ‌كل ‌قرض ‌جر ‌منفعة فهو وجه من وجوه الربا."

ترجمہ: ”حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ قرض جو منافع کھینچ لائے، پس وہ سود ہی  کی ایک صورت ہے۔“

فیض القدیر میں ہے:

"(‌كل ‌قرض ‌جر ‌منفعة) إلى المقرض (فهو ربا) أي في حكم الربا فيكون عقد القرض باطلا فإذا شرط في عقده ما يجلب نفعا إلى المقرض من نحو زيادة قدر أو صفة بطل."

(حرف الکاف، رقم الحدیث:6336، ج:5، ص:28، ط:المكتبة التجارية الكبرى مصر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله لأنه يصير قمارا) ‌لأن ‌القمار ‌من ‌القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:403، ط:ایج ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100915

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں