
ہم دو پارٹنر ہیں، میرا جو پارٹنر ہے وہ میرا بہت اچھا دوست بھی ہے۔ ہمارا پرنٹنگ، کارڈ اور پیپر کا کام ہے۔
سوال یہ ہے کہ کچھ دن پہلے ایک یونیورسٹی کا ایونٹ تھا، جو کہ کنسرٹ تھا۔ اس میں ایک گلوکار نے گانا گانا تھا، تو اس ایونٹ کی ٹکٹیں اور بینرز پرنٹ کرنے تھے، تو ہم نے پرنٹ کر دیے۔اب میرا دوست کہتا ہے کہ یہ کام حرام ہے۔اسی طرح ہم کتابیں بھی پرنٹ کرتے ہیں جن میں کارٹون کریکٹر بھی ہوتے ہیں۔اسی طرح جن کو ہم کارڈ بیچتے ہیں وہ لوگ بھی دوسرے برانڈ کی نقل کرتے ہیں، اور ان میں لڑکیوں کی تصویریں وغیرہ بھی پرنٹ کرتے ہیں۔ہم کاروبار میں جھوٹ بھی بولتے ہیں۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کام جائز ہیں یا سب حرام ہیں؟میں اپنے دوست سے کہتا ہوں کہ جب کنسرٹ کی ٹکٹ بنانا حرام ہے تو پھر یہ سب بھی تو حرام ہی ہوا، اب آپ بتائیں، کیا کیا جائے؟
واضح رہے ہر وہ چیز جس کو شریعت نے ممنوع اور باعثِ گناہ قرار دیا ہے، ایسے کام میں جیسے براہِ راست حصہ لینا ناجائز ہے، ایسے ہی اس کا ذریعہ بننا اور اس کی ترویج کرنا بھی ناجائز ہے، لہٰذاصورتِ مسئولہ میں جان دار( ایسی تصویر ہو جس سے اس کا جان دار ہونا معلوم ہوتا ہو )کی کسی بھی قسم کی تصویر پرنٹ کرنا خواہ کارڈ میں ہویا کتابوں میں ہو یابینرز میں ہو، ناجائز ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ غیر جان دار کی تصاویر بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کنسرٹ کی ٹکٹیں اور بینرز بنانا بھی گناہ(موسیقی اور مخلوط ماحول) پر معاونت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے،البتہ ان کےعلاوہ ایسی ٹکٹیں یا بینرز بنانا جو کسی بھی غیر شرعی امر میں معاون نہ ہو، درست ہے۔نیز کاروبا رمیں جھوٹ بولنے کی شرعا اجازت نہیں اور اس کی وجہ سے بندہ گناہ گار ہوگا اور جھوٹ کی وجہ سے کاروبار کی برکت بھی ختم ہوجاتی ہے۔اور ان سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی حلال نہیں یعنی ناجائز ہے۔
صحيح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا".
(كتاب الإيمان، باب قول النبي صلى الله تعالى عليه وسلم: من غشنا فليس منا، ج:1، ص:69، ط: دار الطباعة العامرة)
السنن الکبری للبیهقی میں ہے:
11545 - "أخبرنا أبو بكر بن الحارث الفقيه، أنبأ أبو محمد بن حيان، ثنا حسن بن هارون بن سليمان، ثنا عبد الأعلى بن حماد، ثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه ".
(كتاب الغصب، باب من غصب لوحا فأدخله في سفينة أو بنى عليه جدارا، ج:6، ص:166، ط: دار الكتب العلمية)
السنن الکبری للنسائی میں ہے:
6007 - "أخبرنا محمد بن بشار، عن محمد، قال: حدثنا شعبة، عن علي بن مدرك، عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير، عن خرشة بن الحر، عن أبي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة، ولا ينظر إليهم، ولا يزكيهم، ولهم عذاب أليم»، فقرأها رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال أبو ذر: خابوا وخسروا، قال: «المسبل إزاره خيلاء، والمنفق سلعته بالحلف الكاذب، والمنان عطاءه".
(كتاب البيوع، ج:6، ص:8، ط: مؤسسة الرسالة)
المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:
132 - "حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرق الحمصي، ثنا محمد بن مصفى، ثنا محمد بن إسحاق العنزي، عن الأوزاعي، عن حسان بن عطية، عن مكحول، عن واثلة بن الأسقع قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج إلينا، وكنا تجارا وكان يقول: «يا معشر التجار إياكم والكذب".
(باب الواو، ما أسند واثلة مكحول الشامي، عن واثلة، ج:22، ص:56، ط: مكتبة ابن تيمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا".
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1، ص:647، ط: سعيد)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"وفي شرح السنة: فيه دليل على أن الصورة إذا غيرت هيئتها بأن قطعت رأسها أو حلت أوصالها حتى لم يبق منها إلا الأثر على شبه الصور فلا بأس به، وعلى أن موضع التصوير إذا نقض حتى تنقطع أوصاله جاز استعماله.قلت: وفيه إشارة لطيفة إلى جواز تصوير نحو الأشجار مما لا حياة فيه كما ذهب إليه الجمهور، وإن كان قد يفرق بين ما يصير مآلا وانتهاء، وبين ما يقصد تصويره ابتداء والله أعلم".
(كتاب اللباس، باب التصاوير، ج:7، ص:2855، ط: دار الفكر)
العناية شرح الهداية میں ہے:
"(ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح، وكذا سائر الملاهي) ؛ لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد. فإنه لو استحقت به لكان وجوب ما يستحق المرء به عقابا مضافا إلى الشرع وهو باطل".
(كتاب الإجارات، باب الإجارة الفاسدة، ج:9، ص:98، ط: دار الفکر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100128
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن