
پرندہ ذبح کرتے ہیں، تو اس کی کتنی رگیں کا ٹیں گے حلال کرنے کے لئے،اور ذبح کرنے کا طریقہ؟
صورت مسئولہ میں پرندے کو ذبح کرنے کا طریقہ وہی ہے جو مرغی وغیرہ کے ذبح کا طریقہ ہے،یعنی پرندے کو قبلہ رو لٹاکر تیز چھری ہاتھ میں لے کرقبلہ رخ ہوکر ''بسم الله الله أكبر''پڑھ کر گلے پر چھری چلائی جائے،یہاں تک کہ جانور کی چار رگیں کٹ جائیں،اور گردن الگ نہ ہو ، ایک رگ "نرخرہ" جس سے جانور سانس لیتاہے،دوسری وہ رگ جس سے دانہ پانی جاتاہے،اور دو شہہ رگیں جو "نرخرہ" کے دائیں بائیں ہوتی ہیں،اگر ان چار رگوں میں سے تین رگیں بھی کٹ جائیں، تب بھی ذبح درست ہوگا۔
جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے:
"والعروق التي تقطع في الذكاة أربعة: الحلقوم وهو مجرى النفس، والمريء وهو مجرى الطعام، والودجان وهما عرقان في جانبي الرقبة يجري فيها الدم، فإن قطع كل الأربعة حلت الذبيحة، وإن قطع أكثرها فكذلك عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى، وقالا: لا بد من قطع الحلقوم والمريء وأحد الودجين، والصحيح قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى لما أن للأكثر حكم الكل، كذا في المضمرات."
(كتاب الذبائح، الباب الأول في ركن الذبح وشرائطه وحكمه وأنواعه، ج: 5، ص: 286،287، ط: رشيدية)
الد المختار میں ہے:
"(وعروقه الحلقوم) كله وسطه أو أعلاه أو أسفله: وهو مجرى النفس على الصحيح (والمريء) هو مجرى الطعام والشراب (والودجان) مجرى الدم (وحل) المذبوح (بقطع أي ثلاث منها) إذ للأكثر حكم الكل."
(كتاب الذبائح، ج: 6، ص: 294،295، ط: ایچ ایم سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707100723
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن