بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

پرائزبونڈ کا انعام اور سیونگ سرٹیفکیٹ کے منافع کا حکم


سوال

پرائزبونڈ کا انعام اور سیونگ سرٹیفیکیٹ کے منافع کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں پرائزبانڈ کاانعام اور سیونگ سرٹیفیکٹ کے منافع سود زمرے میں ہے ،اس لیے پرائزبانڈ کا انعام اور سیونگ سرٹیفیکٹ نام سے جورقم اصل رقم سے زائدنفع پر دی جاتی ہےوہ سود ہے اور اس کا وصول کرنا جائز نہیں ہے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أقرض أحدكم قرضا فأهدي إليه أو حمله على الدابة فلا يركبه ولا يقبلها إلا أن يكون جرى بينه وبينه قبل ذلك» (رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان)

(وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أقرض أحدكم) أي شخصا (قرضا) هو اسم للمصدر والمصدر في الحقيقة الإقراض ويجوز أن يكون هنا بمعنى المقروض فيكون مفعولا ثانيا لأقرض والأول مقدر .....  فأهدى) أي ذلك الشخص (إليه) أي إلى المقرض شيئا من الهدايا (أو حمله على الدابة) أي على دابة نفسه أو دابة المقرض (فلايركبه) أي المركوب وفي نسخة فلا يركبها أي الدابة (ولا يقبلها) أي الهدية وفيه لف ونشر غير مرتب اعتمادا على فهم السامع ... (إلا أن يكون) أي المذكور من المعروف والإهداء (جرى بينه وبينه) أي بين ذلك الشخص والمقرض (قبل ذلك) أي الإقراض لما ورد " ‌كل ‌قرض ‌جر نفعا فهو ربا."

(كتاب البيوع ،باب الربا،ج:5،ص:1926،ط:دارالفكر بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"( كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر".

(کتاب البیوع، فصل فی القرض ،مطلب كل قرض جر نفعا حرام ج:5،ص:166،ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144404101896

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں