بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پوتے اور پوتیاں کب دادا یا دادی کی وراثت میں حصہ دار ہوں گے؟


سوال

جو بچہ یا بچی اپنے والدین کی زندگی میں فوت ہوجائے اور وہ اولاد والے بھی ہوں، تو کیا والدین کی وراثتی جائیداد اور ترکہ میں ایسے بچہ /بچی کی اولاد حصہ دار ہوگی یا نہیں؟ اور اگر ہوگی بھی تو کس تناسب سے ہوگی؟

جواب

اولاد میں سے اگر کسی بیٹے یا بیٹی کا اپنے والدین کی زندگی میں انتقال ہوجائے اوراس  مرحوم کے دیگر ورثاء( بہن ،بھائی) زندہ ہوں تو ایسی صورت میں  والدین کی زندگی میں جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال ہوا ہے وہ ی ااس کی اولاد اپنے دادا، دادی ، یا نانا ، نانی کی وراثت میں حق دار نہیں ہوں گے۔

البتہ ایسی صورت میں اگر دادا، دادی ، یا نانا،نانی ، ان بچوں کے لیے وصیت کرجائیں تو وہ وصیت ثلث مال(ایک تہائی )میں نافذ ہوگی، اسی طرح زندہ ورثاء اگر باہمی رضامندی سے ان بچوں کو کچھ دینا چاہیں تو یہ ان کی طرف سے تبرع و احسان ہوگا۔

رد المحتار میں ہے:

"وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة، أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه."

(کتاب الفرائض ج: 10، ص: 525، ط:مكتبه رشيديه)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710100866

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں