بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1448ھ 18 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

POSمشین میں کیش نکالنے کے لیے کارڈ سوائپ کرنے کا حکم


سوال

 ہمارے پاس دکان پر POS machine موجود ہے، بعض لوگ اپنے credit card کے ذریعے machine پر رقم swipe کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں کوئی سامان خریدتے نہیں، ہم انہیں swipe ہونے والی رقم میں سے بینک کے charges (مثلاً 2٪) کم ہونے کے بعد باقی رقم cash کی صورت میں دے دیتے ہیں، مثال کے طور پر: 100,000 روپے card سے swipe کیے، بینک نے تقریباً 2٪ charges کاٹے باقی رقم cash دے دی گئی، وہ شخص یہ کام اکثر ہر مہینے کرتا ہے، اور اس کا مقصد credit card کے ذریعے cash حاصل کرنا ہوتا ہے، نہ کہ خریداری کرنا، اس بارے میں راہ نمائی فرمائیں:

1. کیا یہ معاملہ شرعاً سود یا ناجائز میں شامل ہے؟

2. کیا بینک کے 2٪ charges سود شمار ہوں گے؟

3. اگر حقیقی خرید و فروخت نہ ہو اور صرف cash دیا جائے تو کیا یہ جائز ہے؟

4. اس معاملے میں card استعمال کرنے والا اور دکان دار دونوں گناہ گار ہوں گے یا نہیں؟

5. اگر دکاندار صرف بینک کی کٹوتی پوری کرنے کے لیے رقم کم دے تو کیا حکم بدل جاتا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں راہ نمائی فرما دیں۔

جواب

واضح رہے کہ بینک کی طرف سے دکان دار کو  دی جانے والیPOSمشین،جس کے ذریعے دوکاندار گاہک کو یہ سہولت فراہم کرتا ہے کہ وہ نقد رقم کی صورت میں ادائیگی کے بجائے اپنے بینک  کارڈ کے ذریعے سے ادائیگی کرلے،point-of-sale (POS)مشین کہلاتی ہے۔

یہ مشین بینک سے فقط اس مقصد کے لیے دی جاتی ہے کہ دوکاندار کے ایسے کسٹمرز  جنہوں نے باقاعدہ کوئی چیز خریدی ہواور وہ نقد رقم ادا  نہ کرسکتے ہوں یا نہ کرنا چاہتے ہوں تو وہ اپنے بینک  کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کرسکے۔

اس مشین کے عوض بینک دوکاندار سے ہر ٹرانزیکشن پر ایک کمیشن فیس چارج کرتا ہے،جو دوکانداروں کے ساتھ مختلف ترجیحات کےاعتبارسےفیصدی حساب سے طے کی جاتی ہے۔اس تمہید کے بعد سوالات کے جوابات درج ذیل ہے :

1:کریڈٹ کارڈ  بنوانا اور اس کا استعمال چوں کہ شرعًا جائز نہیں؛ لہذا اس کے لیے مذکورہ مشین کا استعمال بھی ناجائز ہے، پس صورتِ مسئولہ میں سائل اپنی دوکان میں مذکورہ مشین  ڈیبٹ کارڈ کے  ذریعہ سے رقم منتقلی کے لیے رکھ سکتا ہے،لیکن کسٹمر کا خریدوفروخت کیے بغیر ہی دکاندار سے کارڈ سوائپ کرنے پر کیش رقم لینا جائز نہیں ہوگا ۔

2:جی سود شمار ہوں گے۔

3:اگر حقیقی خریدوفروخت نہ ہو اور صرف کیش دیا جائے تو یہ جھوٹ اور دھوکہ کی وجہ سے جائز نہیں ہوگا ۔

4ـ:دونوں گناہ گار ہوں گے ۔

5: دکاندار کے لیے خریدوفروخت کیے بغیر  کسٹمر کو کیش دیناہی جائز نہیں ہے ،لہذااگر  دکاندار صرف بینک کی کٹوتی پوری کرنے کے لیے  رقم کم دے تو بھی جائز نہیں  ۔

قرآن کریم میں ہے :

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ  (سورة المائدة2)

فتاوی شامی میں ہے:

"[مطلب كل قرض جر نفعا حرام].

(قوله: كل قرض جر نفعا حرام) أي ذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرةوإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخيّ لا بأس به ويأتي تمامه."

(کتاب البیوع، فصل فی القرض ،ج:5، ص:166، ط: سعید)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے :

"وعن رافع بن خديج رضي الله عنه قال: «قيل: يا رسول الله: أي الكسب أطيب؟ قال: " عمل الرجل بيده، وكل بيع مبرور» ". رواه أحمد.
(وعن رافع بن خديج قال: قيل: يا رسول الله أي الكسب) : أي أنواعه (أطيب) ؟ أي أحل وأفضل (قال: " عمل الرجل بيده) ، أي من زراعة أو تجارة أو كتابة أو صناعة (وكل بيع مبرور)..... والمراد بالمبرور أن يكون سالما من غش وخيانة أو مقبولا في الشرع بأن لا يكون فاسدا ولا خبيثا أي رديا، أو مقبولا عند الله بأن يكون مثابا به".

(كتاب البيوع، باب الكسب وطلب الحلال، ج:5، ص:1904، ط:دارالفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801101231

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں