
ہم پیکار ( باڑے سے دودھ خرید کر دکاندار کو فروخت کرنے والے ) کا کام کرتے ہیں ، ہمارا معاہدہ اس طرح ہوتا ہے کہ ہم باڑے والے کے ساتھ پورے سال دودھ کا معاہد کرتے ہیں ، اور پورے سال دودھ کی بندی پر فی من پانچ لاکھ روپے ایڈوانس رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے ،دودھ کی فی من کے اعتبار سے پورے شہر کا ایک متعین بھاؤ پورے سال کیلئے متعین ہوتا ہے ، اس بھاؤ کے اوپر مثلاً تین سو روپے پر معاہدہ ہو جاتا ہے مثلاً آج کل فی من دودھ 7312 روپے چل رہا ہے، تو باڑے والا فی من کی متعینہ بھاؤ پر تین سو روپے اوپر قیمت مقرر کرتا ہے، اگر کوئی پیکار اس قیمت پر راضی نہ ہو تو اس سے ایڈوانس میں اضافہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے ،مثلا فی من چھ لاکھ ایڈوانس مطالبہ کیا جاتا ہے، اور شہر کے متعینہ بھاؤ کے اوپر دو سو روپے مقرر کیا جاتا ہے، اس طرح پورے سال کا معاہدہ ہو جاتا ہے, اور پورے سال پیکار دودھ اٹھانے کا پابند ہوتا ہے، اور باڑے والا پورا دودھ دینے کا پابند ہوتا ہے، اور پیکار ہر دس دن بعد باڑے والے کو دس دن کی قیمت کی ادائیگی کرتا ہے(چاہے دودھ اٹھائے یا نہ اٹھائے)۔
واضح رہے کہ پیکار جو ایڈوانس رکھواتا ہے، وہ صرف ضمانت کے طور پر رکھتا ہے ،اس سے دودھ کی قیمت منہا نہیں کی جاتی ، اور سال کے ختم ہونے پر اگر پیکار آئندہ سال کیلئے دودھ کا معاہدہ نہیں کرنا چاہتا تو وہ
ایڈوانس واپس مل جاتا ہے۔
اگر دودھ کبھی معاہدہ کے مطابق مثلاً 40 من سے کم ہو جائے تو پیکار اوپن مارکیٹ منڈی سے اس کمی کو پورا کرتا ہے ،اور اوپن مارکیٹ کا ریٹ روزانہ کی بنیاد پر کم یا زیادہ ہوتا ہے لہذا اگر اوپن مارکیٹ میں فی من دودھ کی قیمت 7312 روپے سے زیادہ ہوتا ہے تو پیکار اس زائد رقم کی کٹوتی باڑے والے سے کرتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ:
(1)۔ پورے سال دودھ حاضر نہیں ہوتا تو پورے سال کیلئے دودھ کی بندی کر ناشر عا کیسا ہے؟
(2)۔ اور جو ایڈوانس رقم لی جاتی ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے، نیز ایڈوانس کم رکھوانے پر شہر کے بھاؤ سے رقم زیادہ مقرر کی جاتی ہے اور زیادہ ایڈوانس رکھوانے پر بھاؤ سے اوپر کم قیمت مقرر کی جاتی ہے ، اور اگر ایڈوانس بہت زیادہ ہو تو شہر کا متعینہ بھاؤ ہی لیا جاتا ہے، تو ایسا معاہدہ کر ناشر عا جائز ہے یا نہیں ؟
(3)۔ ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ پورے سال مثلا 40من دودھ کی بندی ہوتی ہے ،لیکن پیکار کی طرف سے باڑے والے کو یہ چھوٹ دی جاتی ہے کہ 35اور 40من کے درمیان دودھ میں جو کمی ہو گی اس کو پورا کرنے میں اگر مارکیٹ ریٹ زیادہ ہواتو نقصان یا کم ہوا تو نفع صرف پیکار برداشت کرے گا یا دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہو گا تو کیا یہ صورت شرعا جائز ہے یا نہیں ؟
(4)۔ ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ پیکار باڑے والے سے پورے سال کیلئے ٹپ کا معاہدہ کرتا ہے، کہ ٹپ میں جتنا دودھ آجائے وہ سارا میں اٹھاوں گا، لہذا اگر ایک ٹپ میں مثلاً دس من دودھ آتا ہے تو وہ دس من کی قیمت ادا کرتا ہے۔ ٹینکیوں میں بھرتے وقت متعین ہو جاتا ہے کہ کتنا من دودھ اس ٹپ میں موجود تھا اس کے بعد اتنے من دودھ کی مقررہ قیمت ادا کرتا ہے، کیا اس طرح معاہدہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
1- پورے سال دودھ کی بندی کرنا باڑھے والوں کےتعامل(مارکیٹ کے رواج) کی بناء پرشرعا جائز ہوگا۔
2-واضح رہے کہ مشتری بائع (بیچنے والے )کو جورقم ایڈوانس دیتا ہے وہ بائع کے پاس ابتداء امانت ہوتی ہے البتہ عرفابائع کو اس کے استعمال کی اجازت ہوتی ہے لہذا یہ رقم بائع کےذمہ انتہاءً قرض ہوتی ہے ، جیساکہ کرایہ داری کا معاملہ کرتے وقت ایڈوانس جو رقم لی جاتی ہے تو وہ رقم ابتداء امانت ہوتی ہے انتہاءً قرض ہوتی ہے ، لیکن اگر بائع ایڈوانس رقم اس شرط کے ساتھ لے کہ وہ اس کے بدلے چیز کی قیمت میں کمی کرے گا تو یہ جائز نہیں ،لہذا مذکورہ صورت میں ایڈوانس کی کمی زیادتی کے ساتھ دودھ کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کرنا قرض پر نفع لینے کی وجہ سے سود کے حکم میں آئے گا،اس لیے یہ صورت ناجائز ہوگی،اگر باڑھے والا پیکار سےفی من کے حساب سے ایڈوانس کی رقم متعین کرلے،اور ایڈوانس رقم کی زیادتی کے بدلے اور دودھ کی قیمت میں کمی کی شرط نہ لگائےتو باڑھے والے کے لیے پیکار سے ایڈوانس رقم لینا اوراسے اپنے استعمال میں لانا درست ہوگا ،اور یہ معاملہ بھی شرعا درست ہوگا،نیز ہر دس دن بعد پیکار باڑھے والے کو اتنی ہی رقم کی ادائیگی کا پابند ہوگا جتنا دودھ اس نے باڑھے والے سے اٹھایا ہے۔اگر کسی مجبوری کی وجہ سے پیکار دودھ نہ اٹھاسکے تو اس کے بقدر دودھ کی قیمت کی ادائیگی پیکار کے ذمہ لازم نہ ہوگی۔
3- مذکورہ صورت میں اس بات پر اتفاق کرنا کہ 35 من سے 40 من کے درمیان کی کمی کو پورا کرنے میں جو نفع ونقصان ہوگا اس کو دونوں مل کر ادا کریں گے،یہ شرط شرط فاسد ہے،اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ پیکار نفع و نقصان کی ذمہ داری اپنے ذمہ رکھے،باڑھے والے کو شریک نہ کرے۔
4-مذکورہ صورت میں ٹپ کے ذریعے جو معاہدہ کیا جاتا ،پیمانہ متعین ہونے کی وجہ سے اس میں مبیع مجھول نہیں رہتی ،لہذا اگر مسئولہ صورت میں نمبر 2 میں مذکور خرابیاں موجود نہ ہوں تو پیکا رکا باڑھے والے سے ٹپ کے ذریعے دودھ کی بیع کرنا جائز ہوگا۔
فتاوٰی شامی میں ہے:
"وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام. قال ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به."
(كتاب البيوع، باب القرض،ج: 5، ص:166، ط: سعید)
بدائع صنائع میں ہے :
"وكذلك إن كان مما لا يقتضيه العقد ولا يلائم العقد أيضا لكن للناس فيه تعامل فالبيع جائز كما إذا اشترى نعلا على أن يحدوه البائع أو جرابا على أن يخرزه له خفا أو ينعل خفه والقياس أن لا يجوز، وهو قول زفر - رحمه الله - (وجه) القياس أن هذا شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد العاقدين وإنه مفسد كما إذا اشترى ثوبا بشرط أن يخيطه البائع له قميصا ونحو ذلك.
(ولنا) أن الناس تعاملوا هذا الشرط في البيع كما تعاملوا الاستصناع فسقط القياس بتعامل الناس كما سقط في الاستصناع، ولو اشترى جارية على أنها بكر أو طباخة أو خبازة، أو غلاما على أنه كاتب أو خياط، أو باع عبدا بألف درهم على أنها صحاح أو على أنها جياد نقد بيت المال أو اشترى على أنها مؤجلة فالبيع جائز؛ لأن المشروط صفة للمبيع أو الثمن صفة محضة لا يتصور انقلابها أصلا ولا يكون لها حصة من الثمن بحال، ولو كان موجودا عند العقد يدخل فيه من غير تسمية وإنها صفة مرغوب فيها لا على وجه التلهي، والمشروط إذا كان هذا سبيله؛ كان من مقتضيات العقد، واشتراط شرط يقتضيه العقد لا يوجب فساد العقد كما إذا اشترى بشرط التسليم وتملك المبيع والانتفاع به ونحو ذلك بخلاف ما إذا اشترى ناقة على أنها حامل أن البيع يفسد في ظاهر الرواية؛ لأن الشرط هناك عين وهو الحمل فلا يصلح شرطا."
(كتاب البيوع ، فصل في شرائط الصحة فى البيوع، ج:5، ص: 172،ط: رشیدیه)
فتویٰ نمبر : 144703101551
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن