
ایک لڑکی آرائیں برادری سے تعلق رکھتی ہے، اور ڈاکٹر بن رہی ہے یعنی بی ڈی ایس کر رہی ہے، اور لڑکا راجپوت برادری سے ہے، اوروہ بھی ڈاکٹر آف فارمیسی (Pharm-D) کر رہا ہے،اور لڑکا اہلسنت والجماعت علماء دیو بند کے عقائد کے مطابق دین دار بھی ہے ،لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ اور عاقل ہیں، ایک دوسرے سے نکاح پر راضی ہیں،اسی طرح لڑکے کے خاندان والے بھی نکاح پر راضی ہے، البتہ لڑکی کے خاندان کے دیگر افراد (مثلاً والدہ یا بہن بھائی) بھی نکاح پر راضی ہیں،لیکن صرف لڑکی کے والد محض ذات (برادری) کی بنیاد پر اس نکاح پر رضامند نہیں ہیں اور لڑکی کی شادی زبردستی کہیں اور کرنا چاہتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی کی قوم(برادری)کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے کفو کا کیا حکم ہو ہے،دونوں ایک دوسرے کے لیے کفو ہیں یا نہیں؟اور لڑکا اور لڑکی دو عادل گواہوں کی موجودگی میں شرعی طریقے سے نکاح کر لیں تو کیا یہ نکاح شرعاً صحیح اور درست ہو جائے گا؟
واضح رہے کہ نکاح کے باب میں کفو کا مطلب یہ ہے کہ لڑکا دین، دیانت، مال و نسب، پیشہ اور تعلیم میں لڑ کی کے ہم پلہ (یا اس سے بڑھ کر) ہو ، اس سے کم نہ ہو، اور کفو میں عجمی برادریوں کا اعتبار نہیں ہو گا، اگر لڑکا شریف اور دیندار ہو توکفو کے لیے برادری کا الگ الگ ہونامانع نہیں ہو گا ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر لڑکا دین دار ہے، پیشہ میں ڈاکٹر بن رہا ہے، تو شرعاً یہ لڑکی کا کفو ہے، محض برادری الگ ہونے کی وجہ سے کفو پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،اور اگر لڑکا اور لڑکی نکاح کی شرعی شرائط کا لحاظ رکھ کر نکاح کر لیں تو یہ نکاح شرعاً درست ہو جائے گا۔
نیز لڑکی کے والد کا عاقلہ بالغہ لڑکی کی مرضی کے بغیر زبردستی کسی اور کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں مذکور ہے کہ:
" برادری کے محدود دائرے میں شادی بیاہ کرنے پر بعض برادریووں کی طرف سے جو زور دیا جاتا ہے اور بعض دفعہ ہرجانہ یا بائیکاٹ تک کی سزا دی جاتی ہے، یہ تو شرعاً بالکل غلط ہے اور حرام ہے، لڑکی اور اس کے والدین کی رضامندی سے دوسری اسلامی برادریوں میں بھی نکاح ہو سکتا ہےاور اس میں شرعاً کوئی عیب کی بات نہیں، اور اگر دوسری برادری کا لڑکا نیک ہو اور اپنی برادری میں ایسا رشتہ نہ ہو تو غیر برادری کے ایسے نیک رشتے کو ترجیح دینی چاہیے۔"
(ج: 6، ص: 135، ط: مکتبہ لدھیانوی)
فتاوی شامی میں ہے:
"ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال:
إن الكفاءة في النكاح تكون في ... ست لها بيت بديع قد ضبط
نسب وإسلام كذلك حرفة ... حرية وديانة مال فقط".
( کتاب النکاح، باب الکفاءۃ، ج:3، ص:86، ط: سعید)
وفیہ ایضاً :
"وهذا في العرب(و) أما في العجم فتعتبر (حرية وإسلاما)
(قوله وهذا في العرب) أي اعتبار النسب إنما يكون في العرب فلا يعتبر فيهم الإسلام كما في المحيط والنهاية وغيرهما ولا الديانة كما في النظم ولا الحرفة كما في المضمرات لأن العرب لا يتخذون هذه الصنائع حرفا، وأما الباقي أي الحرية والمال فالظاهر من عباراتهم أنه معتبر قهستاني لكن فيه كلام ستعرفه في مواضعه
(قوله وأما في العجم) المراد بهم من لم ينتسب إلى إحدى قبائل العرب، ويسمون الموالي والعتقاء كما مر وعامة أهل الأمصار والقرى في زماننا منهم، سواء تكلموا بالعربية أو غيرها إلا من كان له منهم نسب معروف كالمنتسبين إلى أحد الخلفاء الأربعة أو إلى الأنصار ونحوهم (قوله فتعتبر حرية وإسلاما) أفاد أن الإسلام لا يكون معتبرا في حق العرب كما اتفق عليه أبو حنيفة وصاحباه لأنهم لا يتفاخرون به، وإنما يتفاخرون بالنسب فعربي له أب كافر يكون كفؤا لعربية لها آباء في الإسلام، وأما الحرية فهي لازمة للعرب لأنه لا يجوز استرقاقهم، نعم الإسلام معتبر في العرب بالنظر إلى نفس الزوج لا إلى أبيه وجده، فعلى هذا فالنسب معتبر في العرب فقط وإسلام الأب والجد في العجم فقط والحرية في العرب والعجم وكذا إسلام نفس الزوج هذا حاصل ما في البحر۔"
( کتاب النکاح، باب الکفاءۃ، ج:3، ص:87، ط: سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما ولاية الحتم والإيجاب والاستبداد..فلا تثبت هذه الولاية على البالغ العاقل ولا على العاقلة البالغة...وعلى هذا يبتنى أن الأب والجدلا يملكان إنكاح البكر البالغة بغير رضاها عندنا."
( کتاب النکاح، فصل بيان شرائط الجواز والنفاذ، ج:2، ص:241، ط:دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100132
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن