بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ کا رجسٹریشن فارم منافع کے ساتھ فروخت کرنا


سوال

پشاور میں بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی نے رجسٹریشن فارم کا اجراء کیا ہے، جس کی اپنی قیمت 70000 روپے ہے۔

1- بحریہ ٹاؤن سوسائٹی کی طرف سے یہ فارم ڈیلرز یا کسی فرد واحد کو بیچنا جائز ہے؟

2 -اگر ڈیلر یہ فارم 70000 میں لے کر یا کوئی بندہ چند فارم 70000 میں لے کر آگے زیادہ قیمت پر بیچ سکتا ہے؟

3- چوں کہ مختلف پراپرٹی ڈیلر ان فارم کو لے کر مختلف ریٹ پر خریدوفروخت کرتے ہیں، اب اگر کوئی بندہ مجھ سے رابطہ کرے کہ میرے لیے فارم لو،اب وہ فارم 70000 کے بجائے، مثال کے طور پر، مجھےکسی پراپرٹی ڈیلر یا بندے سے 90000 روپے میں ملے، تو کیا میں ان فارم کو آگے مزید جائز منافع کےساتھ بیچ سکتا ہوں؟ اور شریعت کی رو سے پراپرٹی کا کاروبار اسی طریقے سے جائز ہے؟

واضح رہے کہ  ان فارم کو لے کر اس کو پُر کرکے جمع کرانا ہوگا اور اس کے بعد اس کی قرعہ اندازی ہو گی، فی الحال پلاٹ کی لوکیشن اور مکمل قیمت اب تک معلوم نہیں ہے۔

مذکورہ فارم فائل کی حیثیت نہیں رکھتا، لیکن اس فارم کے لے لینے سے ایک پلاٹ کا خریدار کہلایا جاتا ہے، جس کی رقم بعد میں ادا کی جائے گی اور پلاٹ کی تعیین بھی قرعہ اندازی سے بعد میں ہو گی۔

جواب

1.صورتِ مسئولہ میں بحریہ ٹاؤن سوسائٹی کی طرف سے رجسٹریشن فارم جاری کرنا جائز ہے، البتہ یہ فارم ڈیلرز یا دیگر افراد کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں، کیوں کہ یہ فارم درحقیقت محض حقِ مجرد ہے، اور حقوقِ مجردہ کا لین دین جائز نہیں۔

2. ڈیلرزاور دیگر خریداروں کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ پلاٹوں کی تعیین سے پہلے یہ فارم منافع کے ساتھ کسی دوسرے فرد کو فروخت کریں؛ اس لیے کہ جب تک سوسائٹی مالکان کی طرف سے قرعہ اندازی نہ ہوئی ہو اور پلاٹوں کی تعیین نہ ہوئی ہو اس وقت تک ڈیلرز اور دیگر خریدار اگلے خریداروں کو پلاٹ حوالہ کرنے پر قادر نہ ہوں گے اور یہ صورت معاملہ کے درست ہونے سے مانع (رکاوٹ) ہے۔

3. آپ کے لیے بھی پلاٹ کی تعیین سے پہلے منافع کے ساتھ فارم آگے بیچنا جائز نہیں ہے، علت (وجہ) وہی ہے جو جزء نمبر 2 میں بیان ہوئی۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف."

(كتاب البيوع، ج:4، ص:518، ط:دار الفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"القدرة على ‌تسليم ‌المبيع شرط انعقاد العقد وصحته."

(كتاب البيوع، القدرة على ‌تسليم ‌المبيع شرط انعقاد العقد وصحته، ج:5، ص:207، طبع:دار الكتب العلمية)

شرح المجلۃ لسلیم للرستم باز میں ہے:

" (يلزم أن يكون المبيع معلوما عند المشتري) لان البیع المجھول فاسد"۔

(الکتاب الأول فی البیوع، الباب الثانیِ فی بیان المسائل المتعلقة بالمبیع، المادۃ:200، ج:1، ص:78، ط:مکتبه رشدیة)

مجلة الأحكام العدلية  میں ہے:

"(المادة 200) : يلزم ‌أن ‌يكون ‌المبيع ‌معلوما عند المشتري۔

(المادة 203) : يكفي كون المبيع معلوما عند المشتري فلا حاجة إلى وصفه وتعريفه بوجه آخر."

(الکتاب الاول فی البیوع، الباب الثاني:في بيان المسائل المتعلقة بالمبيع، ‌الفصل الأول:في حق شروط المبيع وأوصافه، ص:41، ط:نور محمد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144511102669

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں