
میں نے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں دو پلاٹ خریدے تھے۔ جب میں پلاٹوں کے کاغذات تیار کروانے گیا تو سوسائٹی انتظامیہ نے بتایا کہ ان کے قواعد و ضوابط کے مطابق ایک شخص کے نام پر صرف ایک ہی پلاٹ رجسٹر ہوسکتا ہے، دو نہیں۔ چنانچہ میں نے ایک پلاٹ صرف کاغذی کارروائی کی حد تک اپنی اہلیہ کے نام پر رجسٹر کروالیا۔
میں نے اپنی اہلیہ کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ یہ پلاٹ درحقیقت میری ملکیت ہے، صرف سوسائٹی کے ضابطے کی وجہ سے کاغذات آپ کے نام پر بنائے جا رہے ہیں، اور وہ بھی اس بات کو تسلیم کرتی تھیں۔ پلاٹ کی خریداری کی پوری رقم، نیز بعد کی تمام سرکاری فیسیں، ٹیکس اور دیگر اخراجات میں ہی ادا کرتا رہا۔
اب میری اہلیہ کا انتقال ہوچکا ہے اور ہماری کوئی اولاد بھی نہیں ہے۔ میری اہلیہ کے بھائی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مذکورہ پلاٹ میں ان کا بھی حق بنتا ہے۔
شرعاً دریافت طلب امر یہ ہے کہ جبکہ پلاٹ میں نے خریدا تھا، اس کی مکمل قیمت اور تمام اخراجات میں نے ادا کیے تھے، اور اہلیہ کے نام پر صرف کاغذات بنوائے تھے، تو کیا اس صورت میں میری مرحومہ اہلیہ کے بھائیوں کا اس پلاٹ میں کوئی حقِ وراثت بنتا ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جو پلاٹ آپ کی مرحومہ اہلیہ کے نام ہے، اگر واقعتًا یہ پلاٹ آپ نے اپنی ذاتی رقم سے خریدا تھا اور کاغذات میں اہلیہ کے نام کرنا صرف اور صرف سوسائٹی کے ضابطے کی وجہ سے تھا، اہلیہ کو مالک بنانے کی نیت سے نام نہیں تھا تو یہ پلاٹ آپ کی ملکیت ہے، مرحومہ کی ملکیت نہیں ہے اور نہ ہی یہ مرحومہ کا ترکہ ہے، لہذا آپ کے سالوں کا مطالبہ شرعاً درست نہیں ہے، اس پلاٹ میں ان کا کوئی وراثتی حق نہیں ہے۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:
"ويشترط أن لا تكون الهبة بطريق المواضعة حتى يملك الموهوب له المال الموهوب فعليه إذا كانت الهبة بطريق المواضعة فيبقى المال الموهوب ملكا للواهب فعليه لو وهب شخص داره بطريق المواضعة لزوجته وبعد أن سلمها إياها توفي فتصبح تلك الدار موروثة لجميع الورثة وليس للزوجة أن تستقل بها هذا فيما إذا غير مشروع فله بعد ذلك طلب وأخذ المبلغ المذكور."
(الكتاب السابع الهبة، الباب الثاني في بيان أحكام الهبة، ج:2، ص: 457، ط:دار الجيل)
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
" وفى الذخيرة وسئل نجم الدين النسفي: عمن قال: ایں زمين بنام فلان فرزند رسیده خود کردم فاجاب أنه لا يصير لابنه بهذا القدر، اذ ليس فيه مايدل على التمليك."
(كتاب الهبة، الفصل الأول: الفاظ الهبة وما يقوم مقامها، ج:14 ص:415 ،ط:مكتبه رشيديه)
فتاوی قاضی خان میں ہے:
" رجل قال لامرأته بقرتي هذه لك قال أبو القاسم رحمه الله تعالى إن قال بالفارسية اين كاومن ترايكون هبة فلا بد من التسليم وإن قال تراست أو قال إن تو است يكون إقراراً . رجل قال لابنه الصغير این مال تراكردم أو بنام توكردم أو ان توكردم يكون تمليكاً. وقال الشيخ الإمام الأجل الأستاذ ظهير الدين رحمه الله تعالی بنام تو كردم لا يكون تمليكاً ولا إقراراً ."
(كتاب الأقرار، ج:2، ص:600، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102225
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن