بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پلاسٹک کی تھیلیوں کے کاروبار کا حکم


سوال

ایک شخص نے حال ہی میں پلاسٹک کی تھیلیاں  (دودھ والی ، ہینڈل والی) کا کاروبار شروع کیا ہے ،  یہ شخص مارکیٹ سے تھیلیاں  خرید کر  مناسب نفع  رکھ کر فروخت کرتا ہے جیسا کہ عموما کا روبار کیا جاتا ہے ۔

اتنی بات واضح ہے کہ پلاسٹک  کی تھیلی  فی نفسہ جائز ہے، لہذا اس کی کمائی بھی  جائز ہے ،بس یہ بات واضح ہے  کہ پلاسٹک  شوپرچونکہ ختم نہیں ہوتا بلکہ گٹر لائنوں میں چلا جاتا ہے جس سے اذیت پہنچتی ہے اور حدیث میں آتا ہے کہ :المسلم من سلم  المسلمون من لسانه ویدہتو نتیجہ یہ ہے اور اسی وجہ سے حکومت نے اس پر پابندی لگائی ہے لیکن ماتحت    عملہ KMCوالے دوکانداروں   کو تنگ کرتے ہیں ۔ 

• کیا حکومت کی پابندی کی وجہ سے شرعا یہ کاروبار کرنا جائز ہے؟ 

• اگر جائز نہیں تو ہر انسان شدید حرج میں مبتلا ہوگا کہ وہ حاجت کی چیزیں کس چیز میں لے کر جائے گا  تو حکومت نے ٹوکری ، کاغذی تھیلی ، کپڑے کی تھیلی  متبادل کے طور پر پیش کی ہے،  لیکن متبادل کامیاب ثابت نہ ہوا کیونکہ لوگوں کو مائع چیزوں کی حاجت ہوتی ہے مثال کے طور پر دود ھ، تیل وغیرہ ۔ 

• کیا حاجت عامہ کی وجہ سے پلاسٹک کی  تھیلی کا  کاروبار جائز ہوگا ؟  

• کیا حاجت عامہ اور انتظامی مصلحت ( گٹر لائن سے ایذاء) میں اخف البلیتین کا اصول منطبق ہوگا ؟

• کیا KMC والوں کو ماہانہ پیسے دینا جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ پلاسٹک کی تھیلیوں کا کاروبار کرنا فی نفسہ جائز ہے، لیکن اگر حکومت نے مصالحِ عامہ کے پیش نظر اس پر پابندی لگا رکھی ہو تو پھر پابندی کے مطابق عمل کرنا  چاہیئے ، مباح أمور  جو عوام کے مفاد  میں ہو اس پر عمل کرنا ضروری ہے ، جن مائع اشیاء مثلاً دودھ وغیرہ کے لیے پلاسٹک کی تھیلیاں ناگزیر ہیں، ان کو بوقت حاجت استعمال کرنا اور اس کا کاروبار کرنا تو جائز ہوگا، البتہ حکومت وقت نے اگر اس کا کوئی متبادل فراہم کیا ہو اور وہ مال کے ضیاع کا سبب نہ ہو تو اس کو اختیار کرنا چاہییے۔

حاجت عامہ اور انتظامی مصالح کا باہمی تقابل کرنے کے بجائے حکومت کے تجویز کردہ مفید  متبادل کو اختیار کرنا چاہییے۔

رشوت لینا اور دینا دونوں از روئے شرع حرام ہے، حدیث میں اس عمل پر وعید وارد ہوئی ہے، تاہم اگر کسی موقع پر بامر مجبوری پیسے دینے پڑجائیں  بایں طور کہ نہ دینے میں جانی یا مالی حرج لازم آرہا ہو تو اس صورت میں دینے سے دینے والا ان شاء اللہ گناہ گار نہیں ہوگا، لہٰذا   صورت مسؤولہ  میں اگر کے ایم سی والے بطور حکومتی نمائندے کے دکانداروں سے حکومتی حکم پر عمل درآمد کراتے ہیں تو وہ اس میں حق بجانب ہوں گے، ان کو رشوت دے کر اپنا کام کرتے رہنا گناہ ہوگا ۔

الدر المختار میں ہے:

"طاعة ‌الإمام في غير معصية ‌واجبة فلو أمر بصوم وجب ."

(كتاب القضاء، ج:5، ص:422، ط:سعید)

وفیہ ایضا:

"أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان، دفعا للضرر أو جلبا للنفع، وهو حرام على الآخذ فقط".

(کتاب القضاء ،ج:5 ،ص:362 ، ط : دارالفکر)

الاشباه والنظائر ميں هے:

"تصرف الإمام على الرعية منوط بالمصلحة."

(الفن الأول: القواعد الكلية، القاعدة الخامسة، ص:104، ط:دار الكتب العلمية)

الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے :

"وإذا أراد الشركاء في النهر العام أن يحصنوه خيفة الانبثاق وفيه ‌ضرر ‌عام كغرق الأراضي وفساد الطرق يجبر الآبي، وإن لم يكن فيه ‌ضرر ‌عام فلا يجبر الآبي لأنه موهوم، بخلاف الكري فإنه معلوم".

(ج:41، ص:400 ، ط:دارالسلاسل)

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي میں ہے  :

‌‌القاعدة الثالثة - ترتب ضرر أعظم من المصلحة: إذا استعمل الإنسان حقه بقصد تحقيق المصلحة المشروعة منه، ولكن ترتب على فعله ضرر يصيب غيره أعظم من المصلحة المقصودة منه، أو يساويها، منع من ذلك سداً للذرائع، سواء أكان الضرر الواقع عاماً يصيب الجماعة، أو خاصاً بشخص أو أشخاص. والدليل على المنع قول الرسول صلى الله عليه وسلم: «لا ضرر ولا ضرار» وعلى هذا فإن استعمال الحق يكون تعسفاً إذا ترتب عليه ضرر عام، وهو دائماً أشد من الضرر الخاص، أو ترتب عليه ضرر خاص أكثر من مصلحة صاحب الحق أو أشد من ضرر صاحب الحق أو مساو لضرر المستحق. أما إذا كان الضرر أقل أو متوهماً فلا يكون استعمال الحق تعسفاً.

(ج:4، ص: 2868، ط : دار الفکر )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101860

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں