
مجھے شک ہے کہ استنجاء سے فارغ ہونے کے بعد قطرے نکلتے ہیں، اس کے لئے کپڑا استعمال کرتے ہیں ،تو کیا پاکی حاصل ہوجائےگی؟ نیز اگر شک ہو تو کیا کریں ؟ اوراگر ہمیں شک ہو کہ قطرے نکلے یا نہیں اور ہم نے اطمینان کے لیے غالب طور پر یہ سوچ لیا کہ یہ قطرے نہیں ہیں تو کیا حکم ہے؟ اور اگر ہم اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیں لیکن وہ قطرے ہی ہوں تو کیا پاکی حاصل نہیں ہوگی؟ اسی طرح اگر ہمیں نماز میں وضو ٹوٹنے کا شک ہورہا ہو، اور ہم نے بہت غور کیا اور ہمارے دل نے کہا کہ وضو نہیں ٹوٹا غالب گمان یہی ہو کہ وضوء نہیں ٹوٹا،لیکن حقیقت میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ صرف قطروں کے نکلنے کے شک یا وسوسے سے وضو نہیں ٹوٹتا، لہٰذا جب تک قطره نكلنے كا یقین نہ ہو يا جب تک كپڑوں پر تری نظر نہ آجائے، اس وقت تک ان وسوسوں کو اہمیت نہ دی جائے، ہاں البتہ اگر یقین ہو جائے کہ پیشاب کے قطرے ہی نکلے ہیں تو وضو بھی ٹوٹ گیا اور جسم یا کپڑے کے جس حصہ پر وہ قطرے لگے ہیں وہ بھی ناپاک ہوگئے، اور نماز کے دوران قطرے نکلے ہوں تو جسم اور کپڑے کو پاک صاف کرکے اور وضودوبارہ کرکے نماز کا اعادہ (دوبارہ ادا کرنا) ہوگا ۔
لہذاآپ کو اولاً قطروں کے سلسلے میں شک کرنے کی اور وسوسوں کی طرف زیادہ دھیان دینے اور سوچ و بچار کرنے کی ضرورت نہیں ہے،اپنے آپ کو مثبت سرگرمیوں میں مصرف رکھیں تو ان شاءاللہ وسوسے نہیں آئیں گے، اورنماز کے دوران وضو ٹوٹنے کے وسوسوں سے بچنے کا حل یہ ہے کہ نماز میں جو کچھ قرآن تلاوت کیا جائے اُسے غور سے سنا جائے۔
نیزقطروں کی ناپاکی سے بچنے کی خاطر آپ کے لیے سب سے بہتر صورت یہی ہے کہ استنجاء وغیرہ نماز سے قبل کرنے کے بجائے نماز کے بعد کرنے کی عادت بنائیں، کیوں کہ نماز سے پہلے جب استنجاء کی نوبت نہیں آئے گی تو قطرے نکلے یا نہیں نکلے اِس کے شکوک و شبہات کا بھی ازالہ ہوجائے گا۔ اوراستنجاء کے بعد انڈروئیر کا استعمال کیاکریں اور انڈروئیر میں کپڑا یاموٹا ٹشو پیپر اس طرح رکھیں کہ اگر قطرے آجائیں، تو وہ ٹشو پیپر پر لگیں اور کپڑے ناپاک نہ ہوں، اس کے بعد جب نماز کا وقت ہوجائے، تو ٹشو نکال لیں، پھر اگر پیشاب کے قطرے نکلنے کی جگہ سے دائیں بائیں بھی لگے ہوں تو پانی سے بھی استنجا کرلیں ، اور اگر کپڑوں پر نہ لگے ہوں تو انہیں دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔
نیز کبھی نماز کے دوان قطرے نکلنے کا شک ہوا اور غالب گمان کے مطابق یہی سوچ کر نماز مکمل کرلی کہ قطرے نہیں نکلے ہیں، اور بعد میں کپڑوں پر قطرات کے ظاہری نشانات اور نجاست کے اثرات سے یہ یقین ہوجائے کہ نماز کے دوران قطرے نکلے تھے تو استنجاء کر کے اور جسم و کپڑوں کو پاک صاف کر کے نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔
باقی اس مرض کے علاج کے سلسلے میں کسی ماہر ڈاکٹر یا حکیم سے رجوع فرمائیں۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:
نماز کے دوران قطرے نکلتے محسوس ہونا
فتاوی شامی میں ہے:
"فإن الشك والاحتمال لا يوجب الحكم بالنقض، إذ اليقين لا يزول بالشك."
(کتاب الطھارۃ، سنن الوضوء، ج:1، ص148، ط:سعید)
وفيه ايضا:
"أما نفس الإستبراء حتى يطمئن قلبه بزوال الرشح فهو فرض وهو المراد بالوجوب، ولذا قال الشرنبلالي: يلزم الرجل الاستبراء حتى يزول أثر البول ويطمئن قلبه. وقال: عبرت باللزوم لكونه أقوى من الواجب؛ لأن هذا يفوت الجواز لفوته فلا يصح له الشروع في الوضوء حتى يطمئن بزوال الرشح. اهـ ."
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، فصل في الإستنجاء، ج:1، ص:344، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100101
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن