
17 دسمبر 2015 کو کراچی میں ایک نکاح کی مجلس منعقد ہوئی، جس کی نوعیت کچھ یوں تھی کہ دولہا خود کویت میں تھا، لڑکے کا وکیل اور گواہ اوکاڑہ میں تھے اور قاضی نکاح خواں، لڑکی کے وکیل (بھائی) اور گواہ بھی کراچی میں ہی تھے، یہ پوری مجلسِ نکاح فون پر ہی عمل میں آئی، اب دس سال کا عرصہ ہوگیا ہے، نہ لڑکا پاکستان آیا اور نہ آنے کی نیت ہے، بار بار ٹال مٹول کر رہا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذکورہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں؟ کیا یہ دونوں شرعاً میاں بیوی ہیں یا نہیں؟
نوٹ: نہ اب تک رخصتی عمل میں آئی ہے اور نہ شاید آئے۔
واضح رہے کہ شرعاً نکاح منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب و قبول کی مجلس ایک ہو اور اسی مجلس میں دولہا دلہن کا خود موجود ہونا یا ان کے وکیل کا موجود ہونا ضروری ہے، نیز مجلسِ نکاح میں دو گواہوں کا ایک ساتھ موجود ہونا اور دونوں گواہوں کا اسی مجلس میں نکاح کے ایجاب و قبول کے الفاظ کا سننا بھی شرط ہے اور اگر جانبین (لڑکا، لڑکی) میں سے کوئی ایک مجلسِ نکاح میں موجود نہ ہو، تو اس صورت میں وہ اپنا وکیل مقرر کرے، پھر یہ وکیل اپنے مؤکل کی طرف سے اس کا نام مع ولدیت لے کر مجلسِ نکاح میں ایجاب و قبول کریں، تو شرعاً نکاح منعقد ہوجائے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد وكذا إذا كان أحدهما غائبا لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانة وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت زوجت نفسي منه لم يجز."
(كتاب النكاح، ج:1، ص:269، ط:دار الفكر)
تمہیدی تفصیل کے بعد مذکورہ نکاح جو فون پر ہوا ہے کہ دولہا کویت میں تھا اور اس کا وکیل اور گواہان پاکستان کے شہر اوکاڑہ میں تھے، دلہن کا وکیل اور گواہان اور نکاح خواہ قاضی کراچی میں تھے، تو یوں پوی مجلسِ نکاح فون پر مختلف جگہوں سے شریک تھی اور فون پر ہی ایجاب و قبول ہوا، تو یہ مجلس ایک نہ ہونے کی بناء پر شرعاً یہ نکاح منعقد ہ نہیں ہوا ہے، دونوں لڑکی اور لڑکا بدستور اجنبی ہی ہیں، لہٰذا اگر رخصتی عمل میں لانی ہے، تو اس سے قبل تمام شرعی قواعد و ضوابط کے ساتھ نکاح کرنا ضروری ہے، ورنہ بصورتِ دیگر لڑکی دوسری جگہ نکاح کے لیے آزاد ہے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101021
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن