بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فون کال پر نماز جنازہ پڑھنا


سوال

کیا کوئی آدمی موبائل فون پہ کال کے ذریعے نماز جنازہ ادا کر سکتا ہے،  جبکہ وہ ایک شہر میں ہے اور میت دوسرے شہر میں؟

جواب

نمازِ  جنازہ کی  شرائط میں سے یہ ہے کہ  میت نماز پڑھنے والے کے سامنے موجود ہو، اگر میت وہاں موجود نہ ہو تو نماز صحیح نہ ہوگی، لہذا فون کال پر امام  کی آواز کی اقتدا میں غائبانہ نمازِ  جنازہ ادا کرنا  شرعاً جائز نہیں ہے۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومن الشروط حضور الميت ووضعه وكونه أمام المصلي فلا تصح على غائب ولا على محمول على دابة ولا على موضوع خلفه هكذا في النهر الفائق وتفسد صلاة الجنازة بما تفسد به سائر الصلوات إلا محاذاة المرأة، كذا في الزاهدي."

(کتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس في الصلاة على الميت، ج: 1، ص: 164، ط: دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں