
عرض یہ ہے کہ ہمارے ہاں باغوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے، تو اس میں عشر کی ادائیگی کا ایک مسئلہ بنا ہو اہے کہ عشر کون ادا کرے، جہاں تک مفتی بہ قول کا تعلق ہے کہ اگر پھل پکنے سے پہلے باغ کو فروخت کیا تو عشر مشتری پر ہے اور اگر پھل پکنے کے بعد فروخت کیا تو عشر بائع پر ہے۔
اب یہاں معاملات اس طرح ہوتے ہیں کہ عام طور پر لوگ پھل پکنے سے پہلے خریدوفروخت کرتے ہیں ، جس صور ت میں عشر مشتری کے ذمہ ہوتا ہے، لیکن باغ کے مالکان باغ کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں،جس کی وجہ سے کبھی کبھی مشتری کو بہت بھاری نقصان ہو تا ہے، اگر نفع ہوتا بھی ہے و وہ بالکل معمولی سا ہوتا ہے۔
اب یہاں عشر نہ تو بائع ادا کرتا ہے اور نہ مشتری، بائع تو شرعاًاپنے آ پ کو بیع قبل الادراک کی وجہ سے بریء الذمہ سمجھتا ہے، لیکن مشتری کہتا ہے کہ ایک تو میں اس با غ کی بھاری قیمت ادا کرتاہوں اور اس کے علاوہ تین مہینےتک اس کے اخراجات برداشت کرتاہوں او ر اس کے ساتھ ساتھ کبھی نقصان بھی ہو جاتا ہے اور عشر بھی میرے ذمہ ہے، جب کہ بائع بغیر کسی تاوان کے بری ہو جاتا ہے۔ اس لیے عام طور پر ایسی صورتوں میں لوگوں نے عشر اداکرنا چھوڑ دیا ہے، اب اس تمام تفصیل کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :
1۔کیاایسی صورت میں جہاں مشتری کا نقصان ہو رہا ہو یا نفع بہت کم ملتا ہو امام ابو یوسف ؒکے اس قول عشر قيمة القصيل علي البائع والباقي علي المشتريپر عمل کیاجاسکتاہے کہ باغ کی قیمت کا عشر بائع ادا کرے اور اگرنفع ہو تو اس کا عشر مشتری ادا کرے۔
2۔ کیا ایسی صورت میں باغ کے پکنے تک مشتری نےجو اخراجات کیے ہیں ،وہ منہا کیے جاسکتے ہیں؟
3۔اگر مشتری پر عشر واجب ہونے کے باوجود بائع اپنی خوشی سے اپنے حصے کا عشر ادا کرے یا مشتری اس پر شرط لگائے کہ عشر آپ نے ادا کرنا ہے تو ان دونوں صورتوں میں مشتری بریء الذمہ ہو گایا نہیں ؟
واضح رہے کہ درختوں پر پھل ظاہر ہو جائیں لیکن ابھی تک پکے نہ ہوں اور ان کو فروخت کر دیاجائے اور پھلوں کو درخت پر چھوڑنے کی شرط نہ لگائی جائے،بلکہ بائع ازخود اپنی طرف سے پھلوں کو درختوں پر چھوڑنے کی اجازت دے دے تو اس کی 2 صورتیں ہیں:
(الف)یا تو مشتری خریدنے کے بعد پھل کاٹ لے گا یا(ب) درختوں پر رہنے دے گا۔
اگر پھل کاٹ لیے تب تو عشر/نصف عشر بالاتفاق بائع ہی پر لازم ہوگا۔
اور اگر پھل درختوں پر رہنے دیےاور اسی حال میں پک گئے تو امام ابو حنیفہ ؒ اور امام محمد ؒ کے نزدیک عشر مشتری پر ہوگاجب کہ امام ابو یوسف ؒ کے نزدیک کچے پھلوں کی قیمت کے بقدر حساب لگاکر اس کا عشر/نصف عشر بائع پر لازم ہوگا اور پھلوں کے پکنے کے بعد قیمت میں جتنا اضافہ ہوا ہے اس اضافی قیمت کا عشر/نصف عشر مشتری پرلازم ہوگا۔
اس مسئلہ میں مفتی بہ قول تو طرفینؒ کا ہے لیکن اس قول پر عمل کرنے سے موجودہ زمانے میں حرج شدید لازم آئے گا، اس لیے کہ آج کل بیشتر علاقوں میں عرف و رواج یہ ہے کہ پھلوں کا مالک اتنی گراں قیمت پر پھل فروخت کرتا ہے کہ اگر عشر/نصف عشر طرفین کے قول کے مطابق مشتری پر لازم کیا جائے مشتری کا نقصان ہوگا اور سارا نفع بائع کو حاصل ہوگا،جیسا کہ سوال میں بھی مذکور ہے، اور سائل کے بیان کے مطابق اسی وجہ سے لوگوں نے عشر دینا بھی چھوڑ دیا ہے ؛ لہذا اس حرج شدید کو دیکھتے ہوئے زیر نظر مسئلہ میں علامہ ابن عابدین شامیؒ کے عشر سے متعلق ایک اور مختلف فیہ مسئلہ کی تحقیق کو بنیاد بناناچاہیے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ باغ کو اجارہ پر دینے کی صورت میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک عشر زمین کے مالک پر ہے جب کہ صاحبینؒ کے نزدیک عشر کرایہ دار پر ہے،اب باوجود اس کے کہ عبادات میں امام اعظم ؒ کا قول مفتی بہ ہوتا ہے اور امام صاحب ؒ کے قول پر بہت سے مشائخ نے فتوی بھی دیا ہے لیکن علامہ شامی ؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں اوقاف کی زمینیں جو کرایہ پر دی جاتی ہیں ان میں کرایہ دار چونکہ زمین کے تمام مصارف خود برداشت کرتا ہے اس لیے وہ اجرت مثل سے اتنی کم اجرت پر زمین کرایہ پر لیتا ہے کہ اگر زمیندار پر عشر لازم کیا جائےتو اس طے شدہ اجرت سے دوگنی اجرت میں بھی عشر ادا نہ ہوسکے،اب اگر ایسی صورت میں عشر اجرت سے ادا کیا جائے گا تو اس سےحرج شدید لازم آئے گالہذا ایسی صورت میں صاحبینؒ کے قول پر ہی فتوی دینا چاہیے کہ عشر کرایہ دار کے ذمہ لازم ہو۔
زیر نظر مسئلہ میں بھی جہاں کہیں اس طرح کا عرف و رواج ہوکہ بائع اتنی گراں قیمت پر پھل فروخت کرتا ہو کہ عشر مشتری پر لازم کرنے کی صورت میں حرج شدید لاحق ہوتا ہو وہاں امام ابو یوسفؒ کاقول مفتی بہ ہوگا۔اور اس قول کا مطلب یہ ہے کہ کچے پھل جس قیمت پر فروخت کیے گئے اس کا عشر /نصف عشربیچنے والے پر ہوگا اور پھل پکنے کے بعد جو قیمت میں اضافہ ہوا اس اضافی قیمت کا عشر/نصف عشر خریدار پر لازم ہوگااور جہاں کہیں اس قسم کا عرف و رواج نہ ہو وہاں مکمل عشر/نصف عشر خریدار پر لازم ہوگا۔
2:خریدنے کے بعد باغ پکنے تک مشتری نے جو اخراجات کیے ہیں وہ عشر سے پہلے منہا نہیں کیے جائیں گے ۔
3۔امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق جب بائع اورمشتری میں سےہر ایک پر اپنے ذمہ کا عشر ادا کرنا ضروری ہے، تو بائع کے اپنے حصے کا عشر ادا کرنے سے مشتری بریء الذمہ نہیں ہو گا۔ نیز مشتری کا بائع پر پورا عشر ادا کرنے کی شرط لگانا شرط فاسد ہے، اس سے عقد فاسد ہو جائے گا؛اور بیع جائز نہیں ہو گی۔
مبسوط سرخسی میں ہے:
"(قال): وإذا باع الأرض وفيها زرع قد أدرك فعشر الزرع على البائع؛ لأن حق الفقراء قد ثبت في الزرع وهو ملك البائع عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - بنفس الخروج كما قال الله تعالى {ومما أخرجنا لكم من الأرض} [البقرة: 267] وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - بالإدراك قال الله تعالى {وآتوا حقه يوم حصاده} [الأنعام: 141] وعند محمد - رحمه الله تعالى - بالاستحكام، وذلك كله حصل في ملك البائع وهو نماء أرضه فوجب عليه عشره. وأما المشتري فقد استحقه عوضا عما أعطى من الثمن فلا شيء عليه فإن باعها والزرع بقل فعشره على المشتري إذا حصده بعد الإدراك؛ لأن وجوب العشر في الحب وانعقاده كان في ملك المشتري وهو نماء أرضه، وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - عشر مقدار البقل على البائع؛ لأن ذلك القدر من النماء حصل في ملكه، أما عشر الحب فعلى المشتري۔
وكذلك إن باع الزرع وهوقصيل فإن قصله المشتري في الحال فالعشر على البائع، وإن تركه على الأرض بإذن البائع حتى استحصد فالعشر على المشتري، وكذلك كل شيء من الثمار وغيره مما فيه العشر يبيعه صاحبه في أول ما يطلع فإن قطعه المشتري فالعشر على البائع، وإن تركه بإذن البائع حتى أدرك فالعشر على المشتري، وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - عشر مقدار الطلع والبقل على البائع والزيادة على المشتري وحاصل مذهب أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أن بانعقاد الحب وإدراك الثمار يزداد النماء فيزداد الواجب لا أنه يسقط ما كان واجبا أو يتحول إلى غيره، وعند أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - الحب هو المقصود فإذا انعقد كان الواجب فيه دون غيره وانعقاده كان في ملك المشتري فلهذا كان العشر عليه"
(كتاب الزكاة، باب العشر، ج: 2، ص: 207، ط:مطبعة السعادة مصر)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولو باع الزرع إن قبل إدراكه فالعشر على المشتري ولو بعده فعلى البائع(قوله: ولو باع الزرع إلخ) الظاهر أن حكم خراج المقاسمة كالعشر كما يعلم مما مر ح ثم هذا إذا باع الزرع وحده وشمل ما إذا باعه وتركه المشتري بإذن البائع حتى أدرك فعندهما عشره على المشتري وعند أبي يوسف عشر قيمة القصيل على البائع، والباقي على المشتري كما في الفتح."
(كتاب الزكاة، باب العشر، ج:2، ص:333، ط سعيد)
وفيه ايضاّ:
"والعشر على المؤجر كخراج موظف وقالا على المستأجر كمستعير مسلم."
"(قوله: وفي الحاوي) أي القدسي ح (قوله وبقولهما نأخذ) قلت: لكن أفتى بقول الإمام جماعة من المتأخرين كالخير الرملي في فتاواه وكذا تلميذ الشارح الشيخ إسماعيل الحائك مفتي دمشق وقال حتى تفسد الإجارة باشتراط خراجها أو عشرها على المستأجر كما في الأشباه، وكذا حامد أفندي العمادي وقال في فتاواه قلت: عبارة الحاوي القدسي لا تعارض عبارة غيره فإن قاضي خان من أهل الترجيح فإن من عادته تقديم الأظهر والأشهر وقد قدم قول الإمام فكان هو المعتمد وأفتى به غير واحد منهم زكريا أفندي شيخ الإسلام وعطاء الله أفندي شيخ الإسلام، وقد اقتصر عليه في الإسعاف والخصاف. اهـ ."
قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل بحيث لا تفي الأجرة، ولا أضعافها بالعشر أو خراج المقاسمة، فلا ينبغي العدول عن الإفتاء بقولهما في ذلك؛ لأنهم في زماننا يقدرون أجرة المثل بناء على أن الأجرة سالمة لجهة الوقف ولا شيء عليه من عشر وغيره أما لو اعتبر دفع العشر من جهة الوقف وأن المستأجر ليس عليه سوى الأجرة فإن أجرة المثل تزيد أضعافا كثيرة كما لا يخفى فإن أمكن أخذ الأجرة كاملة يفتى بقول الإمام وإلا فبقولهما لما يلزم عليه من الضرر الواضح الذي لا يقول به أحد والله تعالى أعلم."
شرح عقود رسم المفتي ميں ہے:
-"التاسع :ما إذا كان أحدهما أوفق لأھل الأزمان ؛فإن ما كان أوفق لعرفهم أو أسهل عليهم فهو أولي بالاعتماد عليه الخ."
(ص:9، ط مکتبۃ البشری)
مجموعہ رسائل ابن عابدین میں ہے:
"واما العرف الخاص إذا عارض النص المذهبي المنقول عن صاحب المذهب فهو معتبر كما مشى عليه أصحاب المتون والشروح والفتاوى."
(نشر العرف في بناء بعض الأحكام على العرف، ج:2، ص:114، ط: در سعادت، إسطنبول)
فتاوی حقانیہ میں ہے:
"سوال:اگر زمین اجارہ پر دی جائے ...تو اس صورت میں جو آمدنی حاصل ہوگی تو اس کا عشر کس پر واجب ہوگا؟
جواب:اس مسئلہ میں اختلاف ہے ،امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک عشر مالک زمین پر ہے جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک کاشتکار پر ہے ،عام فقہاء صاحبینؒ کے قول کو راجح قرار دیتے ہیں ۔علامہ ابن عابدین ؒ نے اس میں یوں تفصیل نقل کی ہے کہ اگر زمین کا اجارہ اجر مثل کے برابر ہو یعنی جیسی زمین ہو اسی کی مناسبت سے اجرت مقرر کی ہو تو عشر مالک زمین پر ہوگا اور اگر اجارہ میں اجرت اجر مثل سے کم مقرر کی ہو تو عشر کاشتکار پر ہوگا،لیکن بہتر یہ ہے کہ عرف عام پر چھوڑا جائے ،جس علاقے کے رواج کے مطابق مالک زمین پر عشر ہو تو عشر مالک زمین سے لیا جائے گا اور اگر کاشتکار پر ہو تو کاشتکار پر لازم ہوگا،چونکہ ہمارے علاقے میں کاشتکار کی آمدنی زیادہ ہوتی ہے اس لیے صاحبینؒ کےقول کی رو سے کاشتکار کو ادا کرنا ہوگا۔"
(باب العشر،ج:3،ص:579،ط:مکتبہ سید احمد شہید اکوڑہ خٹک)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611102742
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن