
باہر ممالک میں مسلمان جب میڈیکل ٹیسٹ کرواتے ہیں تو ٹیسٹ کی بوتل پر ان کا نام کسی پرچی پر لکھ کر لگایا جاتا ہے اور مسلمانوں کے ناموں میں عموما اللہ تعالی، انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام ہوتے ہیں اور بوتل کے اندر کبھی خون، کبھی پیشاب و پاخانہ بھی ہوتا ہے تو کیا اس میں گستاخی اور بے ادبی نہیں ؟ اور اس کا متبادل بھی موجود ہے کہ اس کے شناخت کے لیے نمبروں کا یا کوڈ کا استعمال کیا جائے اس کو ”نیو مریکل“ کہا جاتا ہے، اب پوچھنا ہے کہ کیا مجھے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اس کو ختم کرواؤں، مسلمانوں کو اس معاملے میں بیدار کروں یا خاموش رہوں جو معاملہ چل رہا ہے اس کو چلنے دوں؟
جس بوتل میں پیشاب، خون یا اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی نجاست بھری ہوئی ہو، اس پر اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یا کسی بھی مقدس نام کو لکھنا بے ادبی ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے،لہٰذا اگر مریض کا نام مقدس ناموں پر ہو تو اس کے ٹیسٹ سیمپل پر مریض کی شناخت کے لیے دیگر طریقے مثلا ّعددی شناخت (Numerical Identification) ، بارکوڈ یا کیو آر کوڈ (QR Code) یا کوئی اور علامت استعمال کی جائے جس میں مقدس نام نہ ہوں، مسلمانوں کو اس معاملے میں حکمت وبصیرت کے ساتھ متعلقہ اداروں اور لیبارٹریز کو اس بہتر متبادل کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولو كتب القرآن على الحيطان والجدران بعضهم قالوا: يرجى أن يجوز، وبعضهم كرهوا ذلك مخافة السقوط تحت أقدام الناس، كذا في فتاوى قاضي خان. كتابة القرآن على ما يفترش ويبسط مكروهة، كذا في الغرائب.بساط أو مصلى كتب عليه الملك لله يكره بسطه والقعود عليه واستعماله، وعلى هذا قالوا: لا يجوز أن يتخذ قطعة بياض مكتوب عليه اسم الله تعالى علامة فيما بين الأوراق لما فيه من الابتذال باسم الله تعالى."
(كتاب الكراهية، الباب الخامس، 5/ 323، ط: رشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144703100593
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن