
میری عمر 33 سال ہے اور میں ایک جسمانی بیماری (معذوری) کا شکار ہوں جس کی وجہ سے پچھلے 24 سال سے مستقل پیشاب کی نالی (Urinary Catheter) کے ذریعے پیشاب کرتا ہوں، یہ نالی چھوٹے پیشاب والی جگہ (عضوِ مخصوص) کے بجائے پیٹ کے اوپر سوراخ کے ذریعے لگی ہوئی ہے، جہاں سے پیشاب خارج ہوتا ہے، اور ایک یورین بیگ (پیشاب کی تھیلی) میں جمع ہوتا ہے اور اس کو میں خالی کرتا ہوں۔ پیشاب ہر وقت جاری رہتا ہے، اور عضوِ مخصوص سے بالکل پیشاب نہیں نکلتا۔اس سلسلے میں مجھے مندرجہ ذیل سوالات کے جواب درکار ہیں:
①جب میں پیشاب کی تھیلی نماز سے پہلے خالی کرتا ہوں، تو کیا مجھے استنجاء کرنا ضروری ہے؟ جبکہ پیشاب عضوِ مخصوص سے نکلتا ہی نہیں، نہ ہی ناپاکی اس مقام پر لگتی ہے؟ میری حالت چونکہ مستقل ہے اور پیشاب مسلسل جاری رہتا ہے، تو کیا میں صاحبِ عذر کے حکم میں آتا ہوں؟ اگر ہاں، تو کیا میں ہر فرض نماز کے وقت صرف نیا وضو کر کے نماز پڑھ سکتا ہوں، یا استنجاء لازمی ہے، چاہے پیشاب تھیلی میں جاری ہو؟
②اگر پیشاب کی تھیلی یا نالی سے معمولی ناپاکی جسم یا کپڑوں پر لگ جائے تو کیا صرف اس جگہ كا دھونا کافی ہے، یا مکمل استنجاء درکار ہوگا؟
براہِ کرم میری مستقل کیفیت کے پیشِ نظر مفصل شرعی راہنمائی مرحمت فرمائیں تاکہ میں عبادات صحیح طریقے سے انجام دے سکوں۔
① واضح رہے کہ جس مریض کو پیشاب کی نالی (Urinary Catheter) اور پیشاب کی تھیلی( urine bag) لگے ہوئے ہوں وہ شرعاً معذور کے حکم میں ہوتا ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ (سائل) بھی شرعاً معذور ہیں، اور اگر عضوِ مخصوص سے پیشاب بالکل نہیں آتا تو فقط پیشاب کی تھیلی خالی کرنے سے استنجاء کرنا لازم نہیں ہے۔ اور جب تک یہ یورین بیگ آپ کو لگا رہے آپ شرعاً صاحبِ عذر رہیں گے، اور نماز کی ادائیگی کے لیے ہر فرض نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد نیا وضوء کرکے نماز ادا کریں،نماز کے لیے وقت داخل ہونے کے بعد فقط وضوء کرلینا کافی ہے، پیشاب کی تھیلی خالی کرنا اور اس کے بعد استنجاء کرنا ضروری نہیں ہے، نیز تھیلی میں پیشاب آنے سے بھی استنجاء کرنا لازم نہیں ہے۔
②پیشاب کی تھیلی یا نالی سے ناپاکی جسم یا کپڑوں کو لگ جائے تو جسم و کپڑے کی وہ ناپاک کا جگہ کا دھونا کافی ہے، استنجاء ضروری نہیں ہے، کیوں کہ شرعی طور پر استنجاء کا حکم اُسی وقت لاگو ہوگا جب سبیلین (اگلی یا پچھلی راہ) سے کسی قسم کی نجاست نکلے گی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"فصل الإستنجاء : إزالة نجس عن سبيل فلا يسن من ريح وحصاة ونوم وفصد ... (وأركانه) أربعة شخص (مستنج، و) شيء (مستنجى به) كماء وحجر (و) نجس (خارج) من أحد السبيلين."
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1، ص:335-336، ط:سعيد)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"شرط ثبوت العذر ابتداءً أن یستوعب استمراره وقت الصلاة کاملاً، وهو الأظهر، کالانقطاع لایثبت مالم یستوعب الوقت کله ... المستحاضة ومن به سلس البول … یتوضؤن لوقت کل صلاة، ویصلون بذلک الوضوء في الوقت ماشاؤا من الفرائض و النوافل … ویبطل الوضوء عند خروج وقت المفروضة بالحدث السابق … إذا کان به جرح سائل وقد شد علیه خرقةً فأصابها الدم أکثر من قدر الدرهم، أو أصاب ثوبه إن کان بحال لوغسله یتنجس ثانیاً قبل الفراغ من الصلاة، جاز أن لا یغسله وصلی قبل أن یغسله وإلا فلا، هذا هو المختار."
(كتاب الطهارة، الباب السادس، الفصل الرابع، ج: 1، ص:40 -41، ط: دارالفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100984
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن