
میرے مامو ں کو حکومت کی طرف سے پنشن ملی ہے تقریبا اتنا پیسہ ملا ہے کہ حج کے نصاب سے زیادہ ہے اور وہ ان پیسوں سے شہر میں گھر خریدنا چاہتے ہیں حالانکہ ان کا ایک گھر گاؤں میں موجود ہے اور ان پیسوں پر سال گزر گیاہے، ان پیسوں کی وجہ سے کیا حج فرض ہے یا نہیں حالانکہ جب وہ گھر خریدیں گے، توپیسے سارے خرچ ہو جائیں گے، اس کے بعد بھی کیا ان پر حج بدستور فرض رہے گا یا ساقط ہوجائے گا؟
صورت مسئولہ میں آپ کے ماموں کو پنشن میں ملنے والی رقم جب حج اور اس کے متعلقات کی ضروریات سے زیادہ ہیں اور حج کی درخواستیں جمع کراتے وقت یہ رقم موجود تھی تو ان پر حج فرض ہوچکا ہے ، اب اگر وہ اس سے فلیٹ بھی خرید لیتے ہیں تو بھی حج کا فریضہ بدستور باقی رہے گا ، ان کو چاہیے کہ جلد از جلد اسے ادا کرنے کی کوشش کرے۔
فتاویٰ شامی میں ہے :
" وإن لم يكن له مسكن ولا شيء من ذلك وعنده دراهم تبلغ به الحج وتبلغ ثمن مسكن وخادم وطعام وقوت وجب عليه الحج وإن جعلها في غيره أثم اهـ لكن هذا إذا كان وقت خروج أهل بلده كما صرح به في اللباب أما قبله فيشتري به ما شاء لأنه قبل الوجوب كما في مسألة التزوج الآتية وعليه يحمل كلام الشارح فتدبر ".
(كتاب الحج، ج : 2، ص : 462، ط : سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے :
"وذكر الكرخي أن أبا يوسف قال إذا لم يكن له مسكن، ولا خادم، ولا قوت عياله، وعنده دراهم تبلغه إلى الحج لا ينبغي أن يجعل ذلك في غير الحج فإن فعل أثم؛ لأنه مستطيع لملك الدراهم فلا يعذر في الترك، ولا يتضرر بترك شراء المسكن، والخادم".
(كتاب الحج، فصل في شرائط فرضيته، ج : 3، ص : 53، ط : دار الکتب العلمیة)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
قال: "وإذا نفقت السائمة كلها بعد حولان الحول عليها سقطت الزكاة عنها…. بخلاف صدقة الفطر والحج فإن محل الوجوب هناك ذمته لا ماله وذمته باقية بعد هلاك المال
(كتاب الزكوة ، باب زكوة الإبل، ج: 2، ص: 174، ط:دار المعرفة بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101866
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن