بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 محرم 1448ھ 08 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

پنشن پر گزر بسر کرنے والے غیر صاحبِ نصاب شخص کے لیے زکوت لینے کا حکم


سوال

میری عمر 63 سال ہے۔ میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو چکا ہوں۔ حکومت کی طرف سے مجھے ماہانہ 26,412 روپے پنشن ملتی ہے۔ اس کے علاوہ میرے پاس نہ کوئی بینک بیلنس ہے، نہ سونا یا چاندی، نہ کوئی جائیداد ہے، اور نہ ہی آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ ہے۔

میرے اہلِ خانہ میں پانچ افراد شامل ہیں: میری اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ دونوں بیٹے اپنی کمائی کرتے ہیں، لیکن وہ مجھے کوئی مالی تعاون نہیں دیتے۔ میں گھر کا ماہانہ 15,000 روپے کرایہ ادا کرتا ہوں، جبکہ گھر کے دیگر تمام اخراجات بھی اپنی پنشن سے ہی پورے کرتا ہوں۔

میں سید نہیں ہوں۔

 کیا میں شرعاً زکوٰۃ لینے کا مستحق ہوں؟ یا نہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا آپ کی ملکیت میں نہ ساڑھے سات تولہ سونا ہے، نہ ہی ساڑھے باون تولہ چاندی اور نہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر نقد رقم یا سامانِ تجارت ہے اور نہ ہی یہ تمام یا بعض اموال مل کر مجموعی طور پر چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی) کی قیمت کے برابر بنتے ہیں۔نیز آپ کا تعلق سادات (ہاشمی، عباسی، علوی، جعفری خاندان) سے بھی نہیں ہے، تو اس صورت میں آپ کے لیے زکات لینا جائز ہے۔

ملاحظہ:یہ محض سوال کا جواب ہے،نہ تصدیق ہے اور نہ سفارش ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا ‌يجوز ‌دفع ‌الزكاة ‌إلى ‌من ‌يملك ‌نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي. ولا يدفع إلى مملوك غني غير مكاتبه كذا في معراج الدراية. ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم كذا في الكافي، وكذا لا يدفع إلى مواليهم كذا في العيني شرح الكنز. ويجوز صرف خمس الركاز والمعدن إلى فقراء بني هاشم كذا في الجوهرة النيرة."

(كتاب الزكاة،الباب السابع في المصارف،ج:1، ص: 189، ط:دار الفكر بيروت)

وفیہ ایضاً:

"تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة  "

(كتاب الزكاة، ج :٬1 ص:178، ط:دار الفکر بیروت)

وفیہ ایضاً:

"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية"

(كتاب الزكاة، ج:1،ص:179، ط:دارالفکر بیروت)

فقط وألله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801101068

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں