بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

پنشن اکاؤنٹ کی رقم میں زکاۃ کا حکم


سوال

میں نے ایک ادارے  میں  پینشن اکاؤنٹ کھولا ہے، جہاں سے ماہانہ پینشن ملتی ہے۔ کیا میری پینشن اکاؤنٹ  کی کل رقم پر زکات ہو گی یا ماہانہ پینشن کی سالانہ بچت پر؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں ہیں تو  پنشن اکاؤنٹ میں موجود رقم تنہا یا دیگر اموالِ زکات (سونا، چاندی، مالِ تجارت یا نقدی) کے ساتھ مل کر جب نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) تک پہنچ جائے اور وہ بنیادی ضرورت سے زائد ہو تو آپ صاحبِ نصاب ہوجائیں گے۔

پھر جب سال گزرجائے اور اس وقت اکاؤنٹ میں موجود رقم تنہا یا دیگر  اموال زکوۃ کے ساتھ ملا کر نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو  اس کل  رقم  کی  زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔ اکاؤنٹ میں جتنی رقم آئے اس پر زکاۃ واجب نہیں ہوگی، جو رقم سال کے درمیان خرچ کردی اس پر زکات واجب نہیں ہوتی، جو رقم سال پورا ہونے والے دن باقی ہو اس پر زکات واجب ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109203045

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں