بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پنشن کا شرعی حکم


سوال

سرکاری نوکر اگر پنشن ہو جانے کے بعد وفات پائے، اس کی پنشن اس کی بیوی کو مل رہی ہے،تو اس پنشن میں اس کی اولاد یا بہن کا حصہ ہو گا یا نہیں؟یا کسی اور رشتہ دار کا حصہ ہو گا؟

جواب

واضح رہےکہ کسی شخص کی وفات کے بعدحکومت یا متعلقہ ادارے کی طرف سےاس کی پنشن کی رقم جس کسی کے نام سےجاری ہوتی ہے، وہی اس کا مالک ہوتا ہے،اس میں وراثت کے احکام جاری نہیں ہوتے،کیوں کہ پنشن کی رقم حکومت یا متعلقہ ادارے کی طرف سے ایک قسم کا عطیہ   ہوتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ شخص کی وفات کے بعد اس کی پنشن اگر اس کی بیوہ کے نام سے جاری ہوئی ہے،تو وہ پنشن بیوہ ہی کی ملکیت شمار ہوگی، اس کو مرحوم کے ترکہ میں شمار نہیں کیا جائے گا، اسی لیے اس میں کسی دوسرے کا کوئی حق و حصہ نہیں ہو گا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته»ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا، والله سبحانه وتعالى أعلم."

(کتاب الحدود ، فصل فی شرائط جواز اقامة الحدود جلد ۷ ص : ۵۷ ط : دار الکتب العلمیة)

امداد الفتاوی میں ہے:

"چوں کہ میراث اموالِ مملوکہ میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسان سرکار کا ہے  بدونِ قبضہ مملوک نہیں ہوتا ،لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں  میراث جاری نہیں ہوگی ،سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے  تقسیم کردے۔"

(ج:4،ص:342،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101068

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں