
پیک شدہ اشیاہ کو خریدنا کیسا ہے جب کہ مشتری نے دیکھی نہ ہوں ۔
واضح رہے کہ بغیر دیکھے پیک شدہ اشیاء خریدنا جائز ہے، البتہ کھول کر دیکھنے کے بعد خریدار کو لینے اور نہ لینے (خیارِ رؤیت) کا اختیار حاصل ہوگا، یعنی دیکھنے کے بعد پسند نہ ہو یا کوئی عیب ہو تو واپس کرسکے گا اور بیچنے والے کے لیے واپس لینا لازم ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(صح الشراء والبيع لما لم يرياه... وله) أي للمشتري (أن يرده إذا رآه).
(قوله: لما لم يرياه) أي العاقدان. قال: في البحر: أراد بما لم يره ما لم يره وقت العقد ولا قبله... (قوله: أي المبيع) أي الذي لم يرياه بأن كان مستورا."
(كتاب البيوع، باب خيار الرؤية، ج: 4، ص: 594،593، ط: دار الفكر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"شراء ما لم يره جائز كذا في الحاوي... من اشترى شيئا لم يره فله الخيار إذا رآه إن شاء أخذه بجميع ثمنه وإن شاء رده سواء رآه على الصفة التي وصفت له أو على خلافها كذا في فتح القدير هو خيار يثبت حكما لا بالشرط كذا في الجوهرة النيرة."
(كتاب البيوع، الباب السابع في خيار الرؤية، الفصل الأول في كيفية ثبوت الخيار وأحكامه، ج: 3، ص: 58،57، ط: دار الفكر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو اشترى دهنا في قارورة فنظر إلى القارورة ولم يصب الدهن على راحته أو على أصبعه فهذا ليس برؤية عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في الخلاصة."
(كتاب البيوع، الباب السابع في خيار الرؤية، الفصل الثاني، ج: 3، ص: 63، ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101721
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن