
ایک لڑکےاور ایک لڑکی کا نکاح ماں، باپ اور خاندان والوں کی رضا مندی اور لڑکا لڑکی کی مرضی سے ہوچکا تھا، اس کے بعد لڑکی نے کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ کورٹ میرج کی، تو اب اس کورٹ میرج کی شرعی کیا حیثیت ہے؟
صورت مسئولہ میں جب لڑکا اور لڑکی کا نکاح ان دونوں کی رضا مندی سے شرعی گواہان کی موجودگی میں منعقد ہوچکا ہے، تو اب پہلے شوہر سے طلاق یا خلع لیے بغیر دوسرے کسی لڑکے کے ساتھ ٗ کسی بھی طریقہ سے کیا گیا نکاح باطل ہے، دوسرا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا ہے، اس دوسرے نکاح کے نتیجے میں جسمانی تعلقات حرام کاری اور زنا شمار ہوں گے،لہذا ان کے درمیان فوری علیحدگی ضروری ہے اور جتنا عرصہ ساتھ رہے اس پر توبہ واستغفار کریں ۔
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:
"أما نكاح منكوحة الغير . . . فلم يقل أحد بجوازه، فلم ينعقد أصلاً."
(كتاب النكاح، باب المهر، ٣/ ٢٧٤، ط: سعيد)
الفتاوی الهندیة میں ہے:
"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره."
(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، ١/ ٢٨٠، ط: رشيدية)
فقط واللہ تعالی أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100648
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن